LIVE
Loading Breaking News...

یمن کے حوثی باغی بحیرہ احمر کے جہازوں سے فیس وصولی پر غور کر رہے ہیں

News Image
یمن کے حوثی گروپ نے بحیرہ احمر سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر نئی فیس عائد کرنے کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ قدم بین الاقوامی بحری تجارت اور خطے کی سلامتی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
یمن کے حوثی گروپ نے بحیرہ احمر سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کے حوالے سے غور شروع کر دیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ تجویز اس وقت زیر غور ہے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی اور اقتصادی دباؤ کے دوران مالی وسائل حاصل کیے جا سکیں۔ اس پیش رفت سے عالمی تجارت اور بحیرہ احمر کے راستے ہونے والی ترسیلات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بحیرہ احمر دنیا کے مصروف ترین آبی گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے تیل اور دیگر اشیاء لے جانے والے جہاز گزرتے ہیں۔ اس سے قبل حوثی تنظیم کی جانب سے خطے میں مختلف بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں جن کی وجہ سے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو اپنے راستے تبدیل کرنا پڑے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی برادری اور بالخصوص چین جیسے ممالک نے اپنے بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے سفارتی سطح پر رابطے تیز کر دیے ہیں۔ چین نے حوثیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم تجارتی راستے پر چینی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو محفوظ بنائیں۔ خطے میں سعودی عرب اور دیگر اتحادیوں کو بھی حوثی کارروائیوں کی وجہ سے سلامتی کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے جس کے پیش نظر سکیورٹی کے امور پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حوثیوں کی جانب سے فیس عائد کرنے کا فیصلہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے بحری انشورنس کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو گا اور عالمی منڈی میں سپلائی چین بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید بین الاقوامی ردعمل اور سفارتی کوششیں متوقع ہیں تاکہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس سمندری راستے پر امن اور روانی کو یقینی بنایا جا سکے۔