LIVE
Loading Breaking News...

چین کا نیا آرکٹک سمندری راستہ اور مشرق وسطیٰ کے متبادل تجارتی راستے

News Image
بیجنگ کا نیا 'آئس سلک روڈ' پگھلتے ہوئے آرکٹک کے سمندر سے گزرتا ہے جو یورپ تک رسائی کا نیا راستہ فراہم کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے امریکہ کے ساتھ نئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔
بیجنگ کا نیا بحری منصوبہ جسے 'آئس سلک روڈ' کا نام دیا گیا ہے، تیزی سے پگھلتے ہوئے آرکٹک کے خطے سے گزرتا ہے اور مستقبل میں مشرق وسطیٰ کے روایتی تجارتی گزرگاہوں کا متبادل بن سکتا ہے۔ یہ نیا سمندری راستہ چین کو براہ راست یورپ کے ساتھ ملاتا ہے اور اس کے ذریعے سفر کے فاصلے اور وقت میں نمایاں کمی واقع ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔ عالمی تجارت کے لیے یہ پیش رفت انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ روایتی راستے اکثر سکیورٹی خدشات اور بین الاقوامی تنازعات کا شکار رہتے ہیں۔ تاہم، اس منصوبے کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، آرکٹک کے اس نئے راستے کے کھلنے سے امریکہ اور چین کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ خطے میں عسکری اور تجارتی غلبے کے حصول کے لیے دونوں بڑی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں، جس سے آرکٹک کا پرامن خطہ بڑی طاقتوں کی کشیدگی کا نیا میدان بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی ماہرین بھی آرکٹک کے برفانی تودے پگھلنے کے عمل پر گہری تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، چین اس منصوبے کو اپنی عالمی تجارتی حکمت عملی بیڈ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم حصہ قرار دیتا ہے۔ اس روٹ کے فعال ہونے سے چین کو خاورِمیانہ اور نہرِ سویز جیسے اہم مقامات پر انحصار کم کرنے کا موقع ملے گا، جو بحران کی صورت میں تجارتی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ بین الاقوامی برادری اور بالخصوص واشنگٹن اس نئی تجارتی حقیقت پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔