LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا دعویٰ: کم جونگ ان کا بات چیت کی درخواست پر مثبت ردعمل

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ان سے بات چیت کی درخواست کا مثبت جواب دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے اس وقت ایک مثبت اور تعمیری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے ان کی جانب سے کی گئی بات چیت کی درخواست پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے اور مواصلاتی عمل اس وقت ایک انتہائی مثبت اور حوصلہ افزا مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس سے مستقبل میں دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوتی ہے۔ اپنے صدارتی دور میں بھی ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں جو بین الاقوامی سفارت کاری میں خاصی توجہ کا مرکز بنی تھیں۔ اپنے حالیہ بیان میں ٹرمپ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کو درست سمت میں لے جانے کے لیے پرانے رابطے اب بھی کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، اس صورتحال کے ساتھ ساتھ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے رویے پر بھی کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے جنوبی کوریا کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ سیول نے ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر کے امریکہ کے ساتھ اپنے روایتی اتحادیانہ کردار سے گریز کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات بین الاقوامی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے امور انتہائی حساس نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ عالمی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے ساتھ دوبارہ رابطے بحال کرنے کی کوششیں اور اتحادی ممالک پر تنقید آنے والے دنوں میں امریکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم اشارے فراہم کرتی ہیں، جن کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔