LIVE
Loading Breaking News...

انٹیویٹو کی ملائیشیا میں نئی فیکٹری، ایشیا میں وسعت

News Image
انٹیویٹو نے ملائیشیا کے علاقے پینانگ میں ایک نئی جدید مینوفیکچرنگ فیکٹری قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جو سال 2028 تک فعال ہو جائے گی۔ اس نئے منصوبے کے تحت خطے میں سال 2032 تک 1,200 سے زائد انتہائی ہنر مند ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
عالمی سطح پر طبی ٹیکنالوجی اور روبوٹک سرجری کے شعبے میں نمایاں مقام رکھنے والی کمپنی انٹیویٹو (Intuitive) نے ایشیا پیسیفک کے خطے میں اپنے کاروباری اور مینوفیکچرنگ فٹ پرنٹ کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ملائیشیا کے معروف صنعتی شہر پینانگ میں ایک نئی جدید فیکٹری تعمیر کی جائے گی جو تقریبا 3 لاکھ 16 ہزار مربع فٹ کے رقبے پر پھیلی ہوگی۔ اس اہم منصوبے کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور طبی شعبے میں جدید ترین آلات کی فراہمی کو مزید موثر بنانا ہے۔ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ پینانگ میں قائم ہونے والی یہ نئی فیکٹری مقررہ وقت کے مطابق سال 2028 میں اپنے باقاعدہ آپریشنز کا آغاز کر دے گی۔ اس کارخانے کے قیام سے نہ صرف انٹیویٹو کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ ایشیا پیسیفک کے خطے میں اس کی سپلائی زنجیر بھی مضبوط ہوگی۔ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اس فیکٹری میں اعلیٰ معیار کے طبی آلات تیار کیے جائیں گے جو مریضوں کی بہتری اور سرجیکل کے طریقہ کار کو مزید محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اس نئے مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام کا ایک اور بڑا مقصد مقامی سطح پر روزگار کے بہترین مواقع فراہم کرنا ہے۔ منصوبے کے اقتصادی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سال 2032 تک اس فیکٹری کے ذریعے 1,200 سے زائد انتہائی ہنر مند اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ملازمتیں پیدا کی جائیں گی۔ اس اقدام سے ملائیشیا کی معیشت کو فروغ ملے گا اور وہاں کے مقامی نوجوانوں اور انجینئرز کو عالمی سطح کے تکنیکی اداروں کے ساتھ کام کرنے کا شاندار موقع ملے گا۔ انٹیویٹو کا یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ کمپنی عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ پینانگ کی یہ فیکٹری کمپنی کے مستقبل کے عزائم میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس سے نہ صرف ایشیائی منڈیوں میں کمپنی کی پوزیشن بہتر ہوگی بلکہ طبی آلات کی تیاری کے شعبے میں بھی ایک نیا معیار قائم ہوگا۔ ملائیشیا کی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے بھی اس سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔