LIVE
Loading Breaking News...

ٹرائے یونیورسٹی نے ریاستی حکام سے رابطے پر پروفیسر کا ای میل معطل کر دیا

News Image
الاباما کی ٹرائے یونیورسٹی نے ایک پروفیسر کی جانب سے ریاستی قانون سازوں کو خط لکھنے پر ان کا ای میل اکاؤنٹ بند کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ پروفیسر کو تحریری تنبیہی نوٹس بھی موصول ہوئے ہیں جس سے تعلیمی اداروں میں آزادی اظہار پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
الاباما میں واقع ٹرائے یونیورسٹی نے اپنے ایک پروفیسر کے خلاف سخت تادیبی اقدامات اٹھاتے ہوئے ان کا آفیشل ای میل اکاؤنٹ بند کر دیا ہے۔ یہ سارا تنازع اس وقت شروع ہوا جب پروفیسر مائیکا سوارٹز نے ریاست کے قانون سازوں کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے یونیورسٹی کے انتظامی امور اور پالیسیوں کے حوالے سے اپنے گہرے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ پروفیسر کی جانب سے ریاستی حکام سے اس طرح رابطہ کیے جانے پر یونیورسٹی انتظامیہ شدید برہم دکھائی دی اور فوری طور پر جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق، ای میل اکاؤنٹ کی بندش کے علاوہ پروفیسر مائیکا سوارٹز کو دو تحریری تادیبی وارننگز بھی جاری کی جا چکی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان اقدامات کو تعلیمی حلقوں میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام اساتذہ کے بنیادی حقوق اور تعلیمی آزادی کو دبانے کے مترادف ہے۔ اس پورے واقعے کے بعد یونیورسٹی کے اندر اور باہر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اساتذہ کو انتظامی فیصلوں پر کھل کر بات کرنے کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔ دوسری جانب، متاثرہ پروفیسر نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے خدشات قانون سازوں کے سامنے قانون اور اصولوں کے دائرے میں رہ کر رکھے تھے۔ ان کا مقصد کسی بھی قسم کی ذاتی مخالفت نہیں بلکہ تعلیمی نظام میں بہتری لانا اور شفافیت کو فروغ دینا تھا۔ تاحال ٹرائے یونیورسٹی کے ترجمان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم انسانی حقوق اور اساتذہ کی تنظیمیں اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات سے یونیورسٹیوں کے اندر خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے جو بالآخر تعلیمی معیار اور تحقیق پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ جیسے جیسے یہ تنازع آگے بڑھ رہا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ ریاستی سطح پر بھی اس معاملے پر مزید بازپرس کی جائے گی تاکہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔