AI
لانیون اے آئی: سائنسی کمپیوٹنگ اور ریاضیاتی پروفس کے ساتھ نئی مصنوعی ذہانت
پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہرین ریاضی اور طبیعیات پر مشتمل ایک ٹیم نے سائنسی مصنوعی ذہانت کے لیے نیا فریم ورک تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے ڈائمنشن کی قیادت میں ایک کروڑ چھ لاکھ ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی گئی ہے۔
پرنسٹن، نیو جرسی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سائنسی اور تکنیکی کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے 'لانیون اے آئی' (Lanyon AI) باضابطہ طور پر منظر عام پر آ گئی ہے۔ یہ ادارہ ایک بالکل نئی قسم کی سائنسی مصنوعی ذہانت تیار کرنے کے لیے کوشاں ہے، جسے ریاضیاتی اصولوں اور درستگی کے ناقابل تردید ثبوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس اہم پراجیکٹ کے پیچھے دنیا کے معروف ترین پرنسٹن ریاضی دان اور فزکس کے ماہرین کارفرما ہیں جو روایتی سائنسی طریقوں کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس نئے اور انقلابی ادارے نے اپنے ابتدائی مراحل میں سرمایہ کاری کی ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے جس کے تحت دس اعشاریہ چھ ملین ڈالر (ایک کروڑ چھ لاکھ ڈالر) کی فنڈنگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس فنڈنگ راؤنڈ کی قیادت مشہور وینچر کیپٹل فرم 'ڈائمنشن' نے کی ہے۔ اس سرمائے کا بنیادی مقصد ٹیم کو اپنے تحقیقی عمل کو تیز کرنے، جدید ترین کمپیوٹیشنل ماڈلز تیار کرنے اور سائنسی و تکنیکی شعبوں میں درپیش پیچیدہ ترین مسائل کا حل تلاش کرنے کے قابل بنانا ہے۔
لانیون اے آئی کی طرف سے پیش کی جانے والی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا امتیازی پہلو یہ ہے کہ اس میں ریاضیاتی درستی (Mathematical Proofs of Correctness) پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ روایتی مصنوعی ذہانت کے نظام اکثر مفروضوں یا تخمینوں پر کام کرتے ہیں، لیکن یہ نئی سائنسی اے آئی ایسے نتائج فراہم کرے گی جو سخت اور ثابت شدہ ریاضیاتی اصولوں پر پورے اترتے ہوں۔ اس پیش رفت سے فارماسیوٹیکل ریسرچ، مٹیریل سائنس، اور پیچیدہ انجینئرنگ سمیت کئی دیگر شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے اس ٹیم کا عزم ہے کہ وہ سائنسی تحقیق کی رفتار کو کئی گنا بڑھا دیں اور محققین کو ایسے طاقتور ڈیجیٹل اوزار فراہم کریں جو غلطیوں کے امکانات کو کم سے کم کر دیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پرنسٹن کے ماہرین کی یہ کاوش آنے والے برسوں میں تکنیکی اور سائنسی کمپیوٹنگ کی بنیاد کو یکسر تبدیل کر دے گی، جس سے نہ صرف تعلیمی و تحقیقی اداروں بلکہ صنعتی شعبے کو بھی بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے۔