LIVE
Loading Breaking News...

کنی یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے شعبے کو بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا

News Image
گذشتہ دہائی کے دوران طلباء کی ریکارڈ تعداد میں داخلوں کے بعد کنی (CUNY) کو فیکلٹی کی کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ ارٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی جاب مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق طلباء کو تیار کرنے کے لیے دباؤ میں ہے۔
سٹی یونیورسٹی آف نیویارک (کنی) میں پچھلی ایک دہائی کے دوران کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس مسلسل اضافے کے نتیجے میں اب یونیورسٹی کو تعلیمی اور انتظامی نوعیت کے کئی شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جنہیں 'گرونگ پینز' یا ترقیاتی دور کی مشکلات قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق طلباء کی اس بھاری تعداد کو معیاری تعلیم فراہم کرنا اور انہیں عملی میدان کے لیے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ بنیادی مسائل میں فیکلٹی کی شدید قلت سب سے نمایاں ہے، کیونکہ طلباء کے تناسب سے اساتذہ اور وسائل کی دستیابی میں کافی فرق آ گیا ہے۔ اساتذہ پر کام کا بوجھ بڑھنے کی وجہ سے تدریسی معیار کو برقرار رکھنا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ دور کا تقاضا ہے کہ طلبا کو روایتی نصاب کے بجائے جدید ترین رجحانات سے ہم آہنگ کیا جائے، تاکہ وہ مارکیٹ میں تیزی سے ابھرتے ہوئے تقاضوں کا مقابلہ کر سکیں۔ آج کل کی جاب مارکیٹ بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر منحصر ہوتی جا رہی ہے۔ اس نئی اور بدلتی ہوئی حقیقت نے کنی یونیورسٹی پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ اپنے نصاب کو فوری طور پر اس طرح تشکیل نو کرے کہ فارغ التحصیل ہونے والے طلباء اے آئی سے لیس جاب مارکیٹ کی سخت ضروریات کو آسانی سے پورا کر سکیں۔ یونیورسٹی حکام اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ تعلیمی معیار متاثر نہ ہو۔ آنے والے وقت میں یونیورسٹی کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہوگا کہ وہ فیکلٹی کے خلا کو پر کرے اور طلباء کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بہترین پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرے۔ اگر ان مسائل کا بروقت حل تلاش نہ کیا گیا تو اس سے طلباء کے مستقبل کے ساتھ ساتھ ادارے کی مجموعی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے اس امتزاج کو کامیاب بنانے کے لیے فنڈز اور بہتر منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔