World
بھارت میں کلین انرجی کی صلاحیت فوسل فیول سے زیادہ ہوگئی
برطانیہ کے ریسرچ ادارے ایمبر اور گلوبل انرجی مانیٹر کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں صاف توانائی کی صلاحیت نے پہلی بار فوسل فیول کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ملک میں کلین انرجی کی مجموعی صلاحیت ۳۳۱ اعشاریہ ۷ گیگا واٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ فوسل فیول کی صلاحیت ۳۰۲ گیگا واٹ ہے۔
نئی دہلی (نیکسورہ نیوز اردو) توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے بھارت کی صاف توانائی (کلین انرجی) کی پیداواری صلاحیت نے پہلی بار روایتی فوسل فیول کی صلاحیت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ممتاز تحقیقی اداروں ایمبر اور گلوبل انرجی مانیٹر کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں کلین انرجی کی مجموعی صلاحیت اب ۳۳۱ اعشاریہ ۷ گیگا واٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں فوسل فیول سے چلنے والے پاور پلانٹس کی صلاحیت ۳۰۲ گیگا واٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ پیشرفت ملک کے توانائی کے منظر نامے میں ایک بڑے فکری اور عملی بدلاؤ کی غماز ہے۔
اس تاریخی تبدیلی کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی مجموعی پیداوار کے معاملے میں اب بھی کوئلہ اور دیگر فوسل فیولز کا غلبہ برقرار ہے۔ اگرچہ نصب شدہ صلاحیت کے لحاظ سے صاف توانائی آگے نکل چکی ہے، لیکن عملی طور پر بجلی کی ترسیل اور کھپت میں کوئلے کا حصہ اب بھی سب سے زیادہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی موسم اور وقت کی پابندیوں کا شکار ہوتی ہے، جس کی وجہ سے فوسل فیول پلانٹس کو اب بھی بیس لوڈ کی فراہمی کے لیے بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
اس کے باوجود، ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ۳۳۱ گیگا واٹ سے زائد کی کلین انرجی کی صلاحیت کا ہدف حاصل کرنا بھارت کے طویل المدتی ماحولیاتی اور اقتصادی اہداف کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت کی جانب سے شمسی توانائی، پن بجلی اور ونڈ انرجی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ فوسل فیول پر انحصار کو بتدریج کم کیا جا سکے اور کاربن کے اخراج میں کمی لائی جا سکے۔
آنے والے برسوں میں متوقع ہے کہ جیسے جیسے بیٹری سٹوریج اور گرڈ کی بہتری کے منصوبے مکمل ہوں گے، ویسے ویسے صاف توانائی نہ صرف نصب شدہ صلاحیت بلکہ حقیقی پیداوار کے لحاظ سے بھی فوسل فیول کو پیچھے چھوڑنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اس پیشرفت کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے کیونکہ دنیا بھر کے ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوسل فیول سے نجات حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔