World
کردستان وزیراعظم کے دفتر پر ڈرون حملہ، وزارت خارجہ کی مذمت
عراق کے خود مختار علاقے کردستان ریجن کے وزیراعظم کے دفتر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کی وزارتِ خارجہ نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق حملے ایرانی سرزمین سے لانچ کیے گئے تھے تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
عراق کے خود مختار خطے کردستان ریجن کے وزیراعظم مسرور بارزانی کے دفتر کو ایک بار پھر ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس پر علاقائی اور بین الاقوامی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں ڈرونز کے ذریعے اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جو سکیورٹی کے حوالے سے ایک سنگین واقعہ ہے۔ کرد سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایرانی سرزمین سے لانچ کیے گئے تھے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس سنگین واقعے کے بعد مختلفممالک اور سفارتی اداروں کی طرف سے ردعمل سامنے آیا ہے اور وزارتِ خارجہ نے اس پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے نہ صرف عراق کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں اگرچہ مالی نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ حملہ ایران کی طرف سے عراق کے کردستان کے علاقے میں موجود مسلح گروہوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا ہی ایک تسلسل معلوم ہوتا ہے، جس سے خطے میں خطرات کے ادراک کی نئی تعریف سامنے آ رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں اور اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ اس سکیورٹی خلا کو کیسے پر کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔ کرد حکومت نے اس حملے کو خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔