Business
تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور برطانوی اجرتوں میں سست روی کی تازہ ترین صورتحال
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے اور جنگ بندی ختم ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ میں زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت کے بحران کے باعث اجرتوں کی نمو میں بھی سست روی دیکھی جا رہی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی اہم وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خاتمہ اور خطے میں سپلائی کے خدشات میں اضافہ ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت نوے ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے کیونکہ ایران نے عبوری معاہدے کی مدت میں توسیع سے انکار کر دیا ہے اور تنازع کے مزید پھیلنے کی دھمکی دی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اہم تجارتی گزرگاہوں بالخصوص آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے جہاں حال ہی میں ایک بحری جہاز کو نامعلوم پراجیکٹائل لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا ہے جس سے عملے کو جانی نقصان پہنچا۔ ان جغرافیائی سیاسی خدਸ਼ات نے توانائی کی عالمی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کاروباری دنیا سے موصول ہونے والی دیگر اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں اجرتوں کی نمو میں بھی سست روی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ملک میں جاری زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت کے بحران اور مہنگائی نے عام شہریوں کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث معاشی سرگرمیوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ برطانوی معیشت کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومتی اور مرکزی بینک کی پالیسیوں کے اثرات اب عملی طور پر ظاہر ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں یہ کشیدگی مزید طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر مہنگائی کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔ عالمی معیشت کو اس وقت رسد کے مسائل اور توانائی کی بلند قیمتوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جو دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹس اور کاروباری سرگرمیوں کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔ متعلقہ ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی معاشی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔