LIVE
Loading Breaking News...

مریض کے مثانے سے دنیا کی سب سے بڑی پتھری نکال لی گئی

News Image
طبی ماہرین نے ایک مریض کے مثانے سے تقریباً تین کلو ایک سو گرام وزنی پتھری کامیابی سے نکال لی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ اب تک کی تاریخ کی سب سے بڑی مثانے کی پتھری ہے۔
طبی تاریخ میں ایک انتہائی حیرت انگیز اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے جہاں ڈاکٹروں نے ایک مریض کے مثانے سے تین کلو ایک سو گرام (3.1kg) وزنی پتھری کامیابی کے ساتھ جراحی کے ذریعے باہر نکال لی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پتھری وزن میں ایک عام نو مولود بچے کے برابر ہے اور طبی حلقوں میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ریکارڈ کی گئی تاریخ میں مثانے سے نکالی جانے والی یہ اب تک کی سب سے بڑی پتھری ہے۔ اس منفرد اور پیچیدہ طبی کیس نے پوری دنیا کے ڈاکٹروں اور طبی محققین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے سائز اور وزن کی پتھری کا مثانے کے اندر موجود ہونا اور مریض کا طویل عرصے تک اس کے ساتھ زندہ رہنا کسی بڑے معجزے سے کم نہیں۔ مریض کو کافی عرصے سے شدید نوعیت کی تکلیف کا سامنا تھا اور اس کا نظامِ اخراج شدید متاثر ہو چکا تھا، تاہم وہ روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کے باوجود اسپیکٹ سے رجوع کرنے میں تاخیر کا شکار رہے۔ ماہر سرجنز کی ٹیم نے جب اس پیچیدہ کیس کا تفصیلی جائزہ لیا تو انہیں اندازہ ہوا کہ مثانے کے اندر موجود یہ مادہ عام پتھریوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑا اور خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ فوری طور پر ایک خصوصی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا جو کہ انتہائی خطرے سے دوچار تھا کیونکہ پتھری کا سائز اعضاء کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کٹھن اور پیچیدہ سرجری کے دوران ڈاکٹروں کی ٹیم نے انتہائی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر کسی بڑے نقصان کے اس دیوہیکل پتھری کو مریض کے جسم سے باہر نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔ آپریشن کے بعد مریض کی حالت اب کافی حد تک خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے اور اسے طبی معائنے کے تحت اسپتال کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ کیس یورولوجی کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس پر مزید طبی تحقیقی مقالے بھی لکھے جائیں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ پتھری اس قدر خطرناک حد تک کس طرح بڑھ سکتی ہے۔ اس کامیابی پر طبی عملے نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور مریض کی صحت یابی کے لیے مزید علاج جاری ہے۔