World
صدر زیلنسکی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات: فضائی دفاعی نظام پر گفتگو
یوکرین کے صدر وولودیمر زیلنسکی نے واشنگٹن کے دورے کے دوران نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اور روس کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یوکرین کے صدر وولودیمر زیلنسکی نے اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن کے دوران امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے، جو کہ عالمی سیاسی منظر نامے پر ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد یوکرین کے لیے فضائی دفاعی نظام، بالخصوص پیٹریاٹ میزائل بیٹریوں کے حصول کو یقینی بنانا تھا تاکہ روسی حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی سکیورٹی اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کس طرح جنگ کے خاتمے کے لیے روس کے ساتھ سفارتی مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں اس ملاقات کے دوران عالمی سطح پر جاری کشیدگی بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو بھی موجود تھے، جس کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ اس غیر معمولی سفارتی سرگرمی پر مرکوز رہی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور وہ تنازعات کے حل کے لیے روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر اقدامات کرنے کے حامی ہیں۔ یوکرین کے لیے یہ وقت انتہائی نازک ہے کیونکہ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی روسی بمباری میں تیزی آئی ہے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ صدر زیلنسکی نے امریکی قیادت پر زور دیا ہے کہ یوکرین کی فضائی حدود کو محفوظ بنانے کے لیے مزید فوجی امداد اور جدید دفاعی آلات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ آنے والے دنوں میں اس ملاقات کے اثرات عالمی سیاست اور بالخصوص روس یوکرین جنگ کے تناظر میں واضح طور پر دکھائی دیں گے۔