LIVE
Loading Breaking News...

بنگلुरु انجینئر کا اے آئی گڑھا ڈیٹیکشن اور رسپانس سسٹم

News Image
بنگلुरु کے ایک ذہین انجینئر نے ایسا مصنوعی ذہانت کا نظام بنایا ہے جو ڈیش کیم فوٹیج کی مدد سے سڑکوں کے گڑھے تلاش کرتا ہے۔ یہ جدید نظام حکومتی ٹھیکیداروں اور متعلقہ افسران کی بھی نشاندہی کرتا ہے جو اس روڈ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے حب بنگلुरु سے تعلق رکھنے والے ایک باصلاحیت انجینئر نے جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا انوکھا نظام تیار کیا ہے جو سڑکوں پر موجود گڑھوں کو نہ صرف خودکار طریقے سے تلاش کرتا ہے بلکہ یہ بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اس مخصوص سڑک کی تعمیر یا دیکھ بھال کے لیے کون سا ٹھیکیدار یا سرکاری افسر ذمہ دار تھا۔ اس اہم ترین تکنیکی اقدام کا مقصد شہر کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور سڑکوں کی خستہ حالی کے ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانا ہے۔ اس نئے نظام کو کام کرنے کے لیے گاڑیوں کے ڈیش کیم فوٹیج، جی پی ایس لوکیشن ڈیٹا اور مختلف گاڑیوں میں نصب سینسرز کی مدد لی جاتی ہے۔ جب کوئی گاڑی سڑک پر چلتی ہے تو اے آئی الگورتھم کیمرے کی مدد سے فوری طور پر سڑک پر موجود گڑھوں اور ٹوٹ پھوٹ کی نشاندہی کر لیتا ہے۔ اس کے بعد یہ سسٹم ہزاروں سرکاری اور میونسپل کارپوریشن کے معاہدوں کا گہرائی سے تجزیہ کرتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس سڑک کا ٹھیکہ کس کمپنی یا ادارے کے پاس تھا اور اس کی مرمت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اس پراجیکٹ کے خالق گورو سین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد شہریوں کی مشکلات کو کم کرنا اور متعلقہ حکام کی کارکردگی کو شفاف بنانا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سڑکیں خراب ہونے کے باوجود کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتا اور فنڈز کے باوجود مرمت کا کام التوا کا شکار رہتا ہے۔ یہ اے آئی سسٹم اس روایتی سستی اور غفلت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر براہ راست ذمہ داران کا نام سامنے لے آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے اے آئی سسٹمز نہ صرف میونسپل اداروں کے لیے بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔ شہری اب روڈ سیفٹی اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے اس طرح کی خودکار ٹیکنالوجیز سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس نظام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ دیگر شہروں میں بھی سڑکوں کی دیکھ بھال کے نظام کو شفاف اور موثر بنایا جا سکے۔