Business
نکی 225 انڈیکس میں تیزی، بینک آف جاپان کی مالیاتی پالیسی
جاپان کا نکی 225 انڈیکس پیر کے روز 506 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ گیا۔ بینک آف جاپان کی جانب سے ستمبر میں شرح سود میں ممکنہ اضافے کے اشاروں نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
ٹوکیو اسٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے پہلے روز کاروبار کا اختتام انتہائی مثبت رجحان کے ساتھ ہوا۔ جاپان کا بینچ مارک نکی 225 انڈیکس 506.45 پوائنٹس یا 0.74 فیصد اضافے کے بعد 69,220.25 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ یہ پیش رفت گزشتہ روز کی گراوٹ کے بعد مارکیٹ کی شاندار بحالی کو ظاہر کرتی ہے، جس نے انڈیکس کو ایک بار پھر نئی بلندیوں اور ریکارڈ ساز حد کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سرمایہ کاروں کی جانب سے تکنیکی خرید و فروخت اور اہم کاروباری اداروں کے شیئرز میں دلچسپی اس اضافے کی بڑی وجہ بنی ہے۔
دوسری جانب، یہ تمام تر مثبت رجحان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بینک آف جاپان کی مالیاتی پالیسیوں اور آئندہ کے اقدامات پر دنیا بھر کے ماہرین کی نظریں مرکوز ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، مرکزی بینک ستمبر کے مہینے میں شرح سود میں اضافے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ملکی معیشت میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے اور ین کی قدر کو مستحکم بنایا جا سکے۔ عام طور پر شرح سود میں اضافہ اسٹاک مارکیٹوں کے لیے منفی سمجھا جاتا ہے، تاہم جاپانی مارکیٹ نے اس ممکنہ فیصلے کو تحمل سے لیا ہے اور کارپوریٹ سیکٹر کی بہتر کارکردگی کی بنیاد پر انڈیکس میں تیزی برقرار رہی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بینک آف جاپان کے گورنر اور دیگر اعلیٰ حکام کے بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ملک طویل عرصے سے جاری منفی شرح سود اور نرم مالیاتی پالیسی کے دور سے باہر نکل رہا ہے۔ اگر ستمبر میں واقعی شرح سود میں اضافہ کیا جاتا ہے، تو اس کے اثرات نہ صرف مقامی مارکیٹ بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس کے باوجود، موجودہ تجارتی سیشن میں ٹوکیو کے سرمایہ کاروں نے بھرپور اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے اور اہم سیکٹرز کے حصص میں بڑی خریداری دیکھنے میں آئی ہے۔
آنے والے دنوں میں سرمایہ کار بالخصوص بین الاقوامی فنڈز اور ادارے جاپانی معاشی اشاریوں، بالخصوص افراط زر کے اعداد و شمار اور صنعتی پیداوار کی رپورٹس کا بغور جائزہ لیں گے۔ مارکیٹ کے شرکاء یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا بینک آف جاپان اپنی پالیسی کو مزید سخت کرے گا یا ستمبر کے بعد کچھ عرصے کے لیے وقفہ لیا جائے گا۔ فی الحال، نکی انڈیکس کی اس شاندار کارکردگی نے ایشیائی مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کے حوصلے بلند رکھے ہیں اور معاشی استحکام کی امیدوں کو تازہ کر دیا ہے۔