LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان میں انسانی حقوق اور میڈیا کی آزادی پر اقوام متحدہ کی رپورٹ

News Image
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (UNAMA) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اپریل سے جون 2026 کے دوران ملک میں انسانی حقوق اور آزادی صحافت کی صورتحال شدید تشویشناک رہی ہے۔ اس عرصے کے دوران طالبان کی جانب سے سینکڑوں افراد کی حراست اور خواتین کے حقوق پر پابندیوں کے نئے واقعات سامنے آئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) نے اپریل سے جون 2026 کے دوران افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مبنی اپنی نئی سہ ماہی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس تین ماہ کے عرصے کے دوران ملک بھر میں بنیادی انسانی حقوق، خواتین کی آزادی اور میڈیا کی آزادی کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویشناک رہی ہے۔ حجاب کی سختی سے انسپکشن، سزاؤں اور وارننگ لیٹرز کے ذریعے شہریوں کی زندگیوں پر مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس سے عامتہ الناس بالخصوص خواتین میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، طالبان حکام کی جانب سے اس مختصر مدت میں تقریباً 400 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کے متعدد واقعات درج کیے گئے ہیں، جن میں خواتین کے حقوق کی تنظیموں اور پرامن احتجاج کرنے والی خواتین کے خلاف سخت اقدامات شامل ہیں۔ افغان خواتین کی تحریکوں نے اس صورتحال پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے 15 اگست کو دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنے کی کال دی ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ اس سنگین انسانی بحران کی طرف مبذول کرائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، ذرائع ابلاغ کی آزادی پر بھی قدغنیں لگاتار بڑھ رہی ہیں۔ صحافیوں کے لیے کام کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اطلاعات کے آزادانہ بہاؤ پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان حکام فوری طور پر بنیادی حقوق کی پاسداری کریں اور شہریوں کی جبری حراست کا سلسلہ بند کریں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے اس صورتحال پر بروقت اور مؤثر سفارتی دباؤ نہ ڈالا تو افغانستان میں انسانی حقوق کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔