World
9/11 کی جنگوں اور امریکی انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں کا جائزہ
نو ستمبر کے بعد کی جنگوں اور امریکی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر ایک نئی کتاب میں اہم حقائق سامنے لائے گئے ہیں۔ یہ تجزیہ اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ امریکہ اور دنیا نے طویل جنگوں سے کیا اسباق حاصل کیے ہیں۔
نو ستمبر دو ہزار ایک کے تاریخی حملوں کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شروع کی جانے والی طویل جنگوں کو گزرے ہوئے ایک طویل عرصہ بیت چکا ہے۔ ان دو دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں بالخصوص مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں جو تبدیلیاں آئیں، انہوں نے عالمی سیاست اور سلامتی کے نقشے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ حال ہی میں ایک نئی کتاب سامنے آئی ہے جس میں امریکی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان تمام برسوں میں عالمی طاقتوں نے کیا کھویا اور کیا پایا۔
کتاب کے مندرجات کے مطابق، ان جنگوں کے دوران امریکہ کو بعض مقامات پر نمایاں کامیابیاں بھی ملیں جنہیں 'جیک پاٹس' سے تعبیر کیا گیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کئی ایسے محاذ بھی رہے جہاں طویل کوششوں کے باوجود ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اسے 'ڈرائی ہولز' کہا گیا ہے۔ اس پورے عمل میں سب سے بڑا نقصان خطے کے عام شہریوں کا ہوا جنہیں بڑے پیمانے پر 'کولیٹرل ڈیمیج' یا جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان جنگوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے کئی حصوں میں مزید عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔
امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں اب بھی انیس سالہ افغان جنگ اور دیگر انسداد دہشت گردی کی مہمات کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پالیسی سازوں نے ماضی کی غلطیوں سے پوری طرح وہ اسباق نہیں سیکھے جو مستقبل کے لیے امن کا ضامن بن سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں دفاعی ماہرین اور محققین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ آئندہ کی حکمت عملی محض طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل پر مبنی ہونی چاہیے تاکہ ماضی کی تباہ کن غلطیوں کا اعادہ نہ ہو۔