LIVE
Loading Breaking News...

بلیک ہیٹ اور ڈیف کون سکیورٹی کانفرنسز میں مصنوعی ذہانت کا غلبہ

News Image
لاس ویگاس میں ہونے والی معروف سکیورٹی کانفرنسز بلیک ہیٹ اور ڈیف کون میں اس بار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس اور اے آئی سکیورٹی موضوعات چھائے رہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ سائبر سکیورٹی کی دنیا میں اب مصنوعی ذہانت کا کردار ناگزیر ہو چکا ہے۔
لاس ویگاس میں منعقد ہونے والی دنیا کی دو معروف ترین سائبر سکیورٹی کانفرنسز، بلیک ہیٹ اور ڈیف کون، اس سال روایتی سکیورٹی موضوعات سے آگے بڑھ کر مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے گرد گھومتی دکھائی دیں۔ ان تقریبات میں شرکت کرنے والے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت پوری انڈسٹری کی توجہ کا مرکز صرف اور صرف اے آئی ایجنٹس اور اس سے جڑے سکیورٹی خدشات ہیں۔ کانفرنس کے دوران ہونے والے سیشنز اور ورکشاپس میں یہ بات واضح کی گئی کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کا استعمال سائبر حملوں کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے اور دوسری طرف اس کا دفاع کرنے کے لیے بھی اے آئی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ کانفرنس کے دوران ماہرین نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ اے آئی سسٹمز کو کس طرح ہیکرز کے حملوں سے محفوظ رکھا جائے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے سکیورٹی محققین نے انکشاف کیا کہ اے آئی ماڈلز میں موجود کمزوریوں کو فائدہ اٹھا کر بڑے پیمانے پر ڈیٹا چوری کیا جا سکتا ہے یا سسٹمز کو ہائی جیک کیا جا سکتا ہے۔ ان مسائل نے صنعت کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے جہاں روایتی فائر والز اور اینٹی وائرس سسٹمز اب کافی نہیں رہے۔ اس سال کے ایونٹس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سائبر سکیورٹی کا مستقبل اب مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والی بڑی ٹیک کمپنیوں اور سکیورٹی فرمز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے سسٹمز میں اے آئی کی بنیاد پر خودکار دفاعی سسٹمز کو فروغ دیں گی تاکہ کسی بھی خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں بلیک ہیٹ اور ڈیف کون جیسی کانفرنسز کا بنیادی محور ہی مصنوعی ذہانت اور اس کے سکیورٹی پہلو ہوں گے۔