Business
عالمی مارکیٹ اور ایشیائی کرنسیوں میں تیزی، ڈالر کمزور
ہفتے کے پہلے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایشیائی ترقی پذیر کرنسیوں کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تائیوان اور تھائی لینڈ کی کرنسیوں نے اس رجحان میں نمایاں قیادت کی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہفتے کے روز ایک مثبت رجحان دیکھنے میں آیا جہاں ایشیائی ترقی پذیر ملکوں کی کرنسیوں نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں بہتری حاصل کی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کا کمزور ہونا بتایا جا رہا ہے جس نے خطے کی مارکیٹوں کو خاطر خواہ سہارا فراہم کیا۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، سرمایہ کار اس وقت خطے کے مختلف معاشی اشاریوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل کی سرمایہ کاری کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔
اس معاشی منظر نامے میں تائیوان اور تھائی لینڈ کی کرنسیوں نے سب سے زیادہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مجموعی ترقی میں سرفہرست رہیں۔ علاقائی منڈیوں میں اس مثبت لہر نے سرمایہ کاروں کے اندرونی اعتماد کو بھی بحال کرنے میں مدد دی ہے، جو پچھلے کچھ دنوں سے عالمی معیشت میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ڈالر کی کمزوری کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو ایشیائی خطے کی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کو بھی اس سے طویل المدتی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب، سرمایہ کار اور مارکیٹ کے مبصرین دیگر ایشیائی معیشتوں کے اہم اعداد و شمار کا بھی باریک بینی سے مطالعہ کر رہے ہیں۔ ان میں جاپان کی سست معاشی نمو، ملائیشیا کے حالیہ افراط زر کے اعداد و شمار اور انڈونیشیا کے مرکزی بینک کی آئندہ مانیٹری پالیسی کا فیصلہ شامل ہیں۔ ان تمام عوامل کو ایشیائی خطے کی مجموعی اقتصادی سمت کا تعین کرنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی بھی خصوصی نظر ہے۔