World
ٹرمپ کی اومان کو دھمکی: ایران تنازعہ پر نئی کشیدگی
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ڈیل کے معاملے میں حائل ہونے پر امریکی اتحادی ملک اومان کو بمباری کی دھمکی دی ہے۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر سیاسی ہلچل مچ گئی ہے اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے امریکی اتحادی ملک اومان کو بمباری کی دھمکی دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مجوزہ معاہدے کے حوالے سے صورتحال انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر اومان نے ایران کے ساتھ ہونے والے امور میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا کی یا ان کے راستے میں آیا تو امریکہ اس کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
اس سنگین دھمکی کے بعد عالمی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اومان روایتی طور پر خطے میں ایک پرامن ثالث کے طور پر جانا جاتا ہے اور مختلف ممالک کے درمیان مصالحتی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے بیانات خطے کے استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں اور پہلے سے سلگتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں آگ کو اور زیادہ ہوا دے سکتے ہیں۔ بی بی سی اور سی این این سمیت اہم عالمی نشریاتی اداروں نے بھی اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، ایران جنگ سے متعلق تازہ ترین اطلاعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ٹرمپ نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ سفید جھنڈا لہرائے اور اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے۔ امریکی قیادت کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے جس سے خطے میں مزید فوجی جھڑپوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بحیرہ عرب اور اردگرد کے سمندری راستوں پر بھی کشیدگی کے آثار نمایاں ہیں جہاں حالیہ دنوں میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
عالمی رہنماؤں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ اومان کی حکومت اور دیگر علاقائی ممالک کی طرف سے فی الحال اس بیان پر انتہائی نپا تلا ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم سفارتی سطح پر مشاورت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے سفارت کاری کو موقع دینا ضروری ہے نہ کہ دھمکیوں کی سیاست کو فروغ دینا، تاکہ ایک اور بڑی تباہی سے بچا جا سکے۔