World
کشنر اور نیتن ہاہو کی ملاقات، حماس کے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ
امریکی صدر کے سابق مشیر جیرڈ کشنر اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن ہاہو کے درمیان غزہ میں امن کے حوالے سے اہم ملاقات ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ حماس کی غیر مسلح کاری تک غزہ کی تعمیر نو اور اسرائیلی فوج کا انخلا ممکن نہیں۔
امریکی صدر کے داماد اور سابق مشیر جیرڈ کشنر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن ہاہو کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی ہے جس میں غزہ امن منصوبے اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ غزہ سے اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کے مکمل انخلا اور پٹی کی تعمیرِ نو سے قبل حماس کو اپنے تمام ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کشنر نے اس ملاقات کو انتہائی سودمند قرار دیا ہے، تاہم اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جب تک حماس غیر مسلح نہیں ہوتی، غزہ میں کسی بھی قسم کی تعمیرِ نو کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ادھر، ایک ایسے وقت میں جب سفارتی سطح پر سرگرمیاں جاری ہیں، اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ کے مختلف علاقوں میں بمباری اور فضائی حملوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے جس سے زمینی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے باوجود غزہ میں طویل عرصے سے تعطل کا شکار جنگ بندی اور امن معاہدے پر کوئی حتمی پیش رفت یا بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔ دوسری جانب، ثالث ممالک کے نمائندے بھی فریقین کے مابین پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ خطے میں جاری خون ریزی کو روکا جا سکے اور انسانی بحران کا کوئی پائیدار حل نکالا جا سکے۔