LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی اور سیز فائر کے خاتمے سے تیل کی قیمتوں میں اچھال

News Image
امریکہ اور ایران کے مابین سیز فائر کی مدت ختم ہونے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ آئل کی قیمت نوے ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جس سے عالمی معیشت پر نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے سیز فائر کی مدت کا اختتام اور نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمان کو دی جانے والی دھمکیاں ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ آئل کی قیمت نوے ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر گئی ہے جبکہ توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں جاری کشیدگی میں کمی نہ آئی تو قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔ ایران کی جانب سے عبوری معاہدے میں توسیع مسترد کیے جانے کے بعد صورتحالمزید کشیدہ ہو چکی ہے، جس سے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے کھلے رہنے کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی میں اس تازہ اضافے نے عالمی توانائی مارکیٹس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیل کی برآمدات سے وابستہ اہم ترین خطے میں امن کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں اور مختلف ممالک کے مابین سفارتی کوششیں بھی تاحال کسی نتیجہ خیز موڑ پر نہیں پہنچ سکیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو دنیا بھر میں ایندھن کی فراہمی کا نظام شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں مختلف پیٹرو کیمیکل اور توانائی کمپنیوں نے بھی اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں نظرثانی شروع کر دی ہے تاکہ بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ تنازع کے طول پکڑنے سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ مہنگائی کے مارے ہوئے ممالک پہلے ہی توانائی کے بحران سے نبردآزما ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اس حالیہ اچھال سے ٹرانسپورٹ، صنعت اور عام صارفین پر مالی بوجھ میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ عالمی مالیاتی ادارے اور معاشی ماہرین صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ تیل کی سپلائی لائن کو مستحکم رکھا جا سکے اور قیمتوں کو بے قابو ہونے سے روکا جا سکے۔