LIVE
Loading Breaking News...

فلسطین ہفتہ وار: مغربی کنارے کا محاصرہ اور عالمی سطح پر احتجاج ناکام

News Image
مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے گھروں کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے جبکہ بورڈ آف پیس نے غزہ تخفیف اسلحہ کے معاہدے سے قدم پیچھے ہٹا لیے ہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور احتجاج کے باوجود زمینی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔
مغربی کنارے سے موصول ہونے والی ہفتہ وار اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی خاندانوں کے گھروں کا محاصرہ بدستور جاری ہے، جس نے علاقے میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے مسلسل مذمت اور عالمی سطح پر اٹھنے والے احتجاجی شور کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی مثبت تبدیلی رونما نہیں ہو سکی ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کو شدید خوف و ہراس اور روزمرہ کی زندگی میں انتہائی دشواریوں کا سامنا ہے، کیونکہ سکیورٹی کی مخدوش صورتحال اور محاصرے کی وجہ سے ضروری اشیاء کی رسد بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب، سفارتی محاذ پر بھی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بورڈ آف پیس نے غزہ کے حوالے سے طے پانے والے تخفیف اسلحہ کے معاہدے سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔ اس معاہدے کو خطے میں دیرپا امن کے قیام اور جاری کشیدگی کو کم کرنے کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جا رہا تھا، تاہم اس تازہ یو ٹرن نے امن کی تمام کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے ختم ہونے یا اس پر عمل درآمد رکنے سے خطے میں مزید محاذ آرائی کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کے براہ راست اثرات عام شہریوں پر پڑیں گے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مغربی کنارے میں جاری محاصرے اور غزہ کے معاہدے میں تعطل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی ادارے فوری اور مؤثر مداخلت نہیں کرتے تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ فلسطینی عوام کا مطالبہ ہے کہ عالمی طاقتیں زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں تاکہ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور خطے میں جاری ناانصافیوں کا خاتمہ ہو سکے۔