LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں بریسٹ کینسر کا بحران اور اسرائیلی محاصرے کے اثرات

News Image
اسرائیل کی طرف سے غزہ پر جاری جارحیت اور شدید محاصرے نے خطے میں بریسٹ کینسر کی مریضہ خواتین کے لیے انتہائی سنگین طبی بحران پیدا کر دیا ہے۔ ادویات، علاج اور تشخیص کی سہولیات ناپید ہونے کی وجہ سے ہزاروں خواتین کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
الجزیرہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، غزہ پر جاری اسرائیلی جنگ اور طویل محاصرے نے وہاں کی عام آبادی بالخصوص بریسٹ کینسر میں مبتلا خواتین کے لیے ایک ہولناک انسانی اور طبی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس جنگی صورتحال نے پہلے سے ہی کمزور صحت کے نظام کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کینسر کی مریض خواتین کو زندگی بچانے والی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ محاصرے کی وجہ سے نہ صرف نئی تشخیص کے لیے درکار مشینری ناکارہ ہو چکی ہے بلکہ علاج کا تسلسل بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق غزہ کے اسپتالوں میں کیموتھراپی ادویات، ریڈی ایشن تھراپی کے آلات اور ضروری سرجیکل سامان کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ اسرائیلی جارحیت اور ناکہ بندی کے باعث ادویات اور طبی عملے کی رسائی انتہائی محدود ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کے لیے بروقت علاج اب ایک خواب بن گیا ہے۔ علاج میں اس طرح کے طویل وقفے اور ادویات کی عدم دستیابی کینسر کے مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں اور بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس سنگین انسانی بحران نے عالمی برداری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کردار پر بھی بڑے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر غزہ میں محاصرہ ختم کر کے کینسر کے مریضوں کے لیے ادویات اور علاج کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا، تو آنے والے دنوں میں اموات کی شرح میں مزید خوفناک اضافہ ہو سکتا ہے۔ متاثرہ خواتین اور ان کے اہل خانہ نے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور طبی امداد کی بلا تعطل رسائی کے لیے عملی اقدامات کریں۔