World
کینیڈا کی ٹرمپ کے پچاس فیصد ٹیرف کے خلاف ہنگامی سفارتی کوششیں
کینیڈین حکام نومبر کے آغاز میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ پچاس فیصد ٹیرف کے نفاذ کو رکوانے کے لیے آخری لمحات کی مذاکرات میں مصروف ہیں۔ اس اہم سفارتی کوشش کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بچانا اور معاشی بحران سے نمٹنا ہے۔
اوٹاوا: کینیڈین حکومت نے نومبر کے اوائل میں متوقع پچاس فیصد امریکی ٹیرف کے نفاذ کو رکوانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ کینیڈین حکام کے مطابق، اس وقت وقت بہت کم ہے اور سیاسی دباؤ عروج پر ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اعلان کردہ یہ نئے تجارتی ٹیکس کینیڈا کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اوٹاوا کے اعلیٰ عہدیدار اس تنازع کو حل کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ اس ممکنہ تجارتی جنگ کا کوئی پرامن اور متبادل حل نکالا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ ٹیرف نافذ ہو جاتے ہیں تو اس سے کینیڈا کی برآمدات کو شدید دھچکا لگے گا اور دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین دیرینہ تجارتی معاہدے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کینیڈین قیادت سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر فوری طور پر واشنگٹن کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کوششوں کا بنیادی مقصد امریکی حکام کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ اس قسم کے بھاری ٹیرف نہ صرف کینیڈا بلکہ امریکی صارفین کے لیے بھی مہنگے ثابت ہوں گے۔ کینیڈین وزراء اور سفارت کار واشنگٹن میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ اس معاملے پر کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔ آنے والے چند دن کینیڈا کی تجارتی اور اقتصادی پالیسی کے لیے انتہائی فیصلہ کن ہوں گے، کیونکہ گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ ہی ٹیرف کے نفاذ کی ڈیڈ لائن بھی قریب آ رہی ہے۔ حکومت اندرونی سیاست اور بیرونی دباؤ دونوں محاذوں پر بیک وقت جنگ لڑ رہی ہے تاکہ ملک کو کسی بھی بڑے معاشی دھچکے سے محفوظ رکھا جا سکے۔