LIVE
Loading Breaking News...

امریکا ایران کشیدگی: عراق حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

News Image
عراق میں فضائی حملوں اور ایران کی جانب سے ایک امریکی اڈے پر حملے کی کوشش کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اس وقت نمایاں اضافہ دیکھا گیا جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ عراق میں حالیہ فضائی حملوں اور ایک امریکی اڈے پر ایران کی مبینہ میزائل حملے کی کوشش کے بعد خطے میں سیاسی و عسکری بحران گہرا ہو گیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے ردعمل کے طور پر سرمایہ کاروں میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اوپر کی طرف رجحان دیکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کے پیش نظر تیل کی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ کچھ روز کی گراوٹ کے بعد خام تیل کے نرخوں میں تقریباً سات فیصد تک کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشمکش اور آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بڑے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے عالمی توانائی کے محاذ پر ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اگرچہ ہفتے کے آخر میں عارضی طور پر لڑائی رکنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، تاہم زمینی حقائق اور وقتاً فوقتاً ہونے والے حملے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ صورتحال تاحال انتہائی نازک ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں نہ کی گئیں، تو تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے جو دنیا بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کر سکتا ہے۔