LIVE
Loading Breaking News...

ناجائز درآمدات سے نائیجیریا کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہ، حجم 1.1 ٹریلین نائرا ہوگیا

News Image
ناجائز اور بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے نائیجیریا کی مقامی ٹیکسٹائل کی صنعت کو شدید بحران کا سامنا ہے۔ دو سال کے قلیل عرصے میں ٹیکسٹائل کی درآمدات میں 181 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
نائیریا میں مقامی ٹیکسٹائل کی صنعت کو بچانے کے بارہا دعوؤں کے باوجود درآمدی انحصار میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے ملکی انڈسٹری کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، ملک میں باہر سے آنے والے ٹیکسٹائل مواد پر انحصار تقریباً تگنا ہو چکا ہے جبکہ درآمدات میں دو سال کے دوران 181 فیصد کا ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سنہ 2023 میں جہاں درآمدات کا حجم 377.47 ارب نائرا تھا، وہیں یہ بڑھ کر سنہ 2025 میں 1.08 ٹریلین نائرا تک جا پہنچا ہے۔ اس بڑی چھلانگ نے معاشی ماہرین اور صنعت کاروں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں نائیجیریا کی ٹیکسٹائل انڈسٹری خطے میں انتہائی سرگرم اور روزگار فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ مانی جاتی تھی، تاہم حکومتی پالیسیوں کے تضادات اور درآمدی لبرلائزیشن نے مقامی کارخانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ سستے غیر ملکی کپڑے کی مارکیٹ میں بھرمار کی وجہ سے مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات کا مقابلہ کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ کارخانوں کے بند ہونے سے نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہوئی ہے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں وابستہ مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں، جس سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر پالیسی میں اصلاحات نہ لائی گئیں اور مقامی پیداوار کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سخت اقدامات نہیں کیے گئے تو یہ صنعت مکمل طور پر بیٹھ سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ درآمدی ٹیکسوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مقامی صنعت کاروں کو آسان قرضے اور توانائی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے تاکہ وہ عالمی منڈی کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر بھی مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔ بصورت دیگر، اتنی بڑی تعداد میں درآمدات پر انحصار ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی شدید دباؤ ڈالتا رہے گا اور معاشی بحالی کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔