LIVE
Loading Breaking News...

ہالی ووڈ کی فلموں میں انسانی ہبر نیشن کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے؟

News Image
ہالی ووڈ کی فلموں میں خلائی سفر کے دوران انسانوں کو ہبر نیشن پوڈز میں سلانے کا تصور عام ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق موجودہ طبی اور سائنسی لحاظ سے انسانوں کے لیے طویل المدتی سرمائی خواب ممکن نہیں ہے۔
ہالی ووڈ کی فلموں میں اکثر یہ دکھایا جاتا ہے کہ کہکشاؤں کے طویل سفر کے دوران خلابازوں کو ایک خاص پوڈ میں سلا دیا جاتا ہے جسے ہبر نیشن یا سرمائی خواب کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے مسافر سالوں تک جوان رہتے ہیں اور وقت کا ان پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔ لیکن کیا واقعی سائنس اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ انسان کسی ریچھ یا دوسرے جانوروں کی طرح گہری اور طویل مدتی نیند میں جا سکے؟ ہالی ووڈ کے ان مشہور افسانوں پر جب سائنسی بنیادوں پر غور کیا جاتا ہے تو حقیقت بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ فلمی کہانیوں میں تو یہ سب بہت آسان لگتا ہے جہاں ایک بٹن دبانے سے انسان کو کئی دہائیوں کے لیے برفانی حالت میں رکھا جا سکتا ہے اور پھر بغیر کسی نقصان کے دوبارہ زندہ کر لیا جاتا ہے۔ تاہم، حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ انسانی جسم حیاتیاتی لحاظ سے اس طرح ڈیزائن نہیں کیا گیا کہ وہ طویل عرصے تک بغیر خوراک، پانی اور اعضاء کے فعال نظام کے زندہ رہ سکے۔ اگر انسان کو مصنوعی طور پر ہبر نیشن میں ڈالا جائے تو جسم کے خلیات خراب ہونے لگتے ہیں اور پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں۔ سائنس دان اس شعبے میں مسلسل تحقیق کر رہے ہیں تاکہ میڈیکل ایمرجنسی یا خلائی سفر کے لیے شارٹ ٹرم تھراپیوٹک ہائپوترمیا کے طریقوں کو بہتر بنایا جا سکے، لیکن سالوں پر محیط ہبر نیشن فی الحال صرف سائنس فکشن کا حصہ ہے۔ جانوروں میں سرمائی خواب کا عمل قدرتی جینیاتی اور میٹابولک تبدیلیوں کا نتیجہ ہوتا ہے جو انسانوں میں طبعی طور پر موجود نہیں ہیں۔ لہذا، جب تک سائنس میں کوئی انقلابی پیش رفت نہیں ہوتی، ہالی ووڈ کے یہ خواب بڑی اسکرین تک ہی محدود رہیں گے۔