Politics
ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت صدارتی دور کی کم ترین سطح 33 فیصد پر آ گئی
رائٹرز اور اپسوس کے ایک نئے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جو کہ ان کی صدارت کی تاریخ میں اب تک کی سب سے کم ترین سطح ہے۔ اس تازہ ترین سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اب صرف اپنے انتہائی وفادار حامیوں یا 'مگا' بیس کی ہی حمایت حاصل ہے۔
واشنگٹن: رائٹرز اور اپسوس کی طرف سے جاری کردہ ایک خصوصی رائے عامہ کے جائزے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے اور ان کی منظوری کی شرح کم ہو کر صرف 33 فیصد پر آ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ان کے موجودہ صدارتی دور میں اب تک کی سب سے کم ترین سطح کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صدر کو وسیع پیمانے پر عوام کی حمایت حاصل نہیں رہی اور ان کی مقبولیت کا دائرہ سکڑتا جا رہا ہے۔
اس نئے پول کے نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو اب بنیادی طور پر اپنے روایتی اور انتہائی وفادار سیاسی حلقے یعنی 'مگا' (MAGA) بیس پر ہی انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ دیگر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ عام ووٹرز کے درمیان ان کی پالیسیوں کے خلاف ردعمل شدید ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کے حق میں ووٹ دینے والے عام شہری اب ان سے کترانے لگے ہیں۔ نیویارک میگزین اور دیگر ذرائع ابلاغ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں ٹرمپ کے پاس صرف ان کا بنیادی حامی طبقہ ہی باقی بچا ہے۔
علاوه ازیں، ملک میں جاری دیگر مختلف امور اور عالمی سطح پر ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی جیسے مسائل پر بھی عوام کی آراء منقسم ہیں۔ مختلف سروے رپورٹس کے مطابق ایک بڑی تعداد یعنی لگ بھگ اسی فیصد امریکی شہریوں کا یہ ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ اگر کوئی جنگ یا طویل محاذ آرائی شروع ہوتی ہے تو وہ بہت زیادہ طویل ہو سکتی ہے۔ اس قسم کے بین الاقوامی اور ملکی چیلنجز نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے اور ان کی سیاسی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتخابی ٹیم کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہوگا کہ وہ کس طرح گرتی ہوئی مقبولیت کو سنبھالتے ہیں۔ اگرچہ ان کا بنیادی ووٹ بینک اب بھی ان کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن عام ووٹرز کی ناراضگی آئندہ کے سیاسی منظرنامے اور انتخابات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس صورتحال میں وائٹ ہاؤس کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر نئی حکمت عملی تیار کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔