Business
اسکاٹ لینڈ کا سرکاری شپ یارڈ چوتھائی ملازمین کو فارغ کرنے کی تیاری کر رہا ہے
اسکاٹ لینڈ کے سرکاری ملکیت والے شپ یارڈ میں دو تاخیر کا شکار ہونے والی کیلمیک فیریز کا کام مکمل ہونے کے قریب ہے۔ اس پیش رفت کے بعد انتظامیہ نے پیداواری لاگت کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنی کل افرادی قوت کا ایک چوتھائی حصہ کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسکاٹ لینڈ کا سرکاری ملکیت والا شپ یارڈ شدید مالی و انتظامی چیلنجز کے باعث اپنی کل افرادی قوت کا ایک چوتھائی حصہ کم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ پورٹ گلاسگو میں واقع اس تاریخی شپ یارڈ میں دو بڑی اور طویل تاخیر کا شکار ہونے والی کیلمیک فیریز کی تیاری کا کام اب اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جس کے بعد نئے پراجیکٹس کی عدم موجودگی میں ملازمین کی اتنی بڑی تعداد کو برقرار رکھنا انتظامیہ کے لیے ممکن نہیں رہا۔
ذرائع کے مطابق فیری پراجیکٹس کی تکمیل کے بعد شپ یارڈ کے پاس فی الحال کوئی بڑا تجارتی یا سرکاری کنٹریکٹ موجود نہیں ہے، جو طویل مدتی بنیادوں پر اتنے بڑے عملے کے اخراجات برداشت کر سکے۔ اس صورتحال کے پیش نظر شپ یارڈ کی انتظامیہ نے یونینز اور ملازمین سے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ افرادی قوت میں کمی کے اس فیصلے پر لائحہ عمل طے کیا جا سکے اور ممکنہ اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
مقامی سطح پر اس فیصلے کے بعد مزدور یونینز اور سیاسی حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کے سمندری ورثے اور جہاز سازی کی صنعت کے لیے یہ ایک انتہائی کٹھن وقت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شپ یارڈ کے لیے فوری طور پر نئے ملکی یا بین الاقوامی کنٹریکٹس کا بندوبست کرے تاکہ قیمتی روزگار کے مواقع بچائے جا سکیں اور اس اہم صنعتی ادارے کو بند ہونے سے روکا جا سکے۔
حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام ادارہ جاتی بقا اور مستقبل میں شپ یارڈ کو مالی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگرچہ یہ فیصلہ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے، لیکن موجودہ مالیاتی خسارے اور پراجیکٹس کی کمی کے تناظر میں اس کے علاوہ کوئی اور قابل عمل متبادل راستہ موجود نہیں تھا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ ملازمین کی دوبارہ ملازمت یا تربیت کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔