World
روسی ماہرِ معیشت یوکرین جنگ کے اخراجات پر تنقید کے بعد فارغ
روسی سرکاری ترقیاتی بینک کے سرفہرست ماہرِ معیشت آندرے کلیپاچ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے یوکرین جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور عالمی حریفوں سے پیچھے رہ جانے کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔
روس کے سرکاری ترقیاتی بینک 'وی ای بی' (VEB) سے وابستہ ملک کے سرفہرست ماہرِ معیشت آندرے کلیپاچ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس برطرفی کی بنیادی وجہ ان کا وہ بیان بتایا جا رہا ہے جس میں انہوں نے یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے نتیجے میں روس پر پڑنے والے گہرے معاشی بوجھ اور مالیاتی نقصانات کے بارے میں کھل کر بات کی تھی۔ آندرے کلیپاچ کا شمار روس کے انتہائی تجربہ کار اور مستند معاشی ماہرین میں ہوتا ہے، جنہوں نے ماضی میں ملکی پالیسی سازی میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں آندرے کلیپاچ نے کھل کر تنقید کی تھی کہ طویل ہوتی ہوئی جنگ کی وجہ سے روس معاشی میدان میں اپنے عالمی حریفوں سے تیزی سے پیچھے ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ملکی ترقیاتی منصوبوں اور عام شہریوں کی معاشی فلاح و بہبود پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اس قسم کے بیانات کو عام طور پر ملکی پالیسیوں سے اختلاف سمجھا جاتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ریاستی سطح پر جنگ کو بھرپور انداز میں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا جا رہا ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آندرے کلیپاچ کی برطرفی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ روسی حکومت جنگ کے اخراجات اور اس کی معاشی قیمت کے حوالے سے کسی بھی قسم کی اندرونی تنقید یا اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ یوکرین میں جاری طویل جنگ کے طویل المدتی اثرات روسی معیشت کو کس سمت میں لے کر جا رہے ہیں، اور اس جنگ کی قیمت عام روسی عوام اور معاشی اداروں کو کس طرح چکانی پڑ رہی ہے۔