World
امریکی طیارہ بردار جہاز اور سوویت آبدوز کی تاریخی ٹکر کی کہانی
سال 1984 میں سرد جنگ کی انتہائی کشیدہ صورتحال کے دوران امریکی بحریہ کا جہاز یو ایس ایس کٹی ہاک بحیرہ جاپان میں سوویت یونियन کی ایک ایٹمی آبدوز سے ٹکرا گیا تھا۔ اس خطرناک واقعے نے دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان عسکری تناؤ کو مزید بڑھا دیا تھا اور تیسری جنگ عظیم کا خوف پیدا ہو گیا تھا۔
تاریخ کا ایک ایسا خطرناک واقعہ جو سرد جنگ کے عروج پر پیش آیا، اس وقت دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لے آیا جب ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور سوویت یونियन کی ایٹمی آبدوز کے درمیان سمندر میں خوفناک تصادم ہوا۔ سال 1984 میں پیش آنے والا یہ واقعہ بحیرہ جاپان میں رونما ہوا جہاں امریکی بحریہ کا مشہور جہاز یو ایس ایس کٹی ہاک ایک بڑی عسکری مشق میں مصروف تھا۔ اس دوران سوویت یونियन کی کے-314 نامی ایٹمی آبدوز اس امریکی بحری بیڑے کی خفیہ نگرانی کر رہی تھی تاکہ اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔ سرد جنگ کے ان کشیدہ دنوں میں دونوں سپر پاورز کے درمیان اس طرح کا آمنے سامنے کا تصادم انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ حادثے کے وقت سوویت آبدوز اچانک سطح آب پر نمودار ہوئی جس کا اندازہ امریکی جہاز کے عملے کو بروقت نہیں ہو سکا۔ دونوں بھاری بھرکم اور طاقتور عسکری عمارات کے آپس میں ٹکرانے سے نہ صرف بحری سازوسامان کو نقصان پہنچا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور عسکری محاذ پر کھلبچی مچ گئی۔ اس واقعے کے بعد دونوں اطراف سے عسکری کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا کیونکہ اس بات کا شدید خدشہ تھا کہ کہیں یہ تصادم کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔ خوش قسمتی سے اس حادثے کے نتیجے میں کوئی ایٹمی تباہی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی بڑا جانی نقصان سامنے آیا، تاہم یہ واقعہ سرد جنگ کی تاریخ کے ان چند خطرناک ترین لمحات میں شمار ہوتا ہے جب دنیا ایک اور عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی۔ تجزیہ کار آج بھی اس واقعے کو دونوں ممالک کے درمیان عسکری غلط فہمیوں اور خطرناک مقابلوں کی ایک بڑی مثال کے طور پر یاد کرتے ہیں، جس نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ عسکری طاقتوں کے درمیان کشیدگی کتنی جلدی قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔