LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا اتحادی ممالک پر مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں فریق بننے کا دباؤ

News Image
امریکی حکومت نے عالمی اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں واضح موقف اختیار کریں۔ اس اقدام کا مقصد عالمی تکنیکی منظر نامے پر اپنی برتری کو برقرار رکھنا اور سکیورٹی خدشات سے نمٹنا ہے۔
عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے مقابلے اور مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں امریکہ نے ایک بار پھر اپنے اتحادی ممالک پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ واشنگٹن کی طرف سے یہ اصرار کیا جا رہا ہے کہ اتحادی ممالک مصنوعی ذہانت کی اس نئی عالمی جنگ میں واضح طور پر اپنا موقف طے کریں اور مخصوص سمت کا انتخاب کریں۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد جدید ترین ٹیکنالوجی کے شعبے میں سکیورٹی خدشات کو دور کرنا اور حریف ممالک کو پیچھے چھوڑنا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اس نازک موڑ پر مشترکہ حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دوسری جانب، تکنیکی ماہرین اور کاروباری حلقوں میں اس امریکی مطالبے کے حوالے سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کی تقسیم عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی ترقی کو سست کر سکتی ہے، جبکہ بعض کا یہ ماننا ہے کہ قومی سلامتی کے پیش نظر واضح اتحاد ناگزیر ہیں۔ دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیاں بھی اس بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس سے ان کی بین الاقوامی مارکیٹ اور سپلائی چین براہ راست متاثر ہو سکتی ہے۔ اس حالیہ پیش رفت نے دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں نئے سفارتی اور تکنیکی مباحث کو جنم دے دیا ہے۔ یورپی یونین اور دیگر اہم ممالک اس معاملے پر اپنے اپنے لائحہ عمل کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ایک طرف امریکی مطالبات کو بھی پورا کیا جا سکے اور دوسری طرف اپنی معاشی اور تکنیکی خودمختاری کو بھی نقصان سے بچایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار اور عالمی شراکت داری کے حوالے سے مزید اہم فیصلے متوقع ہیں۔