Technology
لازارس گروپ کا سائبر حملہ، گرین بون او ایس اور ونڈوز فلا کا انکشاف
شمالی کوریا کے معروف ہیکنگ گروپ لازارس نے دفاعی اور ایوی ایشن اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک نئی سائبر مہم شروع کی ہے۔ اس مہم میں سوشل انجینئرنگ اور ونڈوز کی ایک سنگین کمزوری کو مشترکہ طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
شمالی کوریا کے مبینہ طور پر ریاستی سرپرستی میں چلنے والے بدنام زمانہ ہیکنگ گروپ 'لازارس' نے دنیا بھر کے دفاعی، ایرو اسپیس اور ایوی ایشن اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک نئی اور انتہائی خطرناک سائبر جاسوسی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس تازہ ترین حملے میں حملہ آوروں نے جدید ترین تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے معروف پلیٹ فارمز کو متاثر کیا ہے، جس سے اہم تنصیبات کی سکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
اس مہم کے دوران، جسے سکیورٹی محققین نے 'آپریشن ڈریم جاب' کا تسلسل قرار دیا ہے، لازارس گروپ کے کارندوں نے سوشل انجینئرنگ کے ہتھکنڈوں کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، ونڈوز کی ایک مخصوص استحقاق میں اضافے کی کمزوری (CVE-2026-68820) کو بھی بھرپور طریقے سے استحصال کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس نقص کی بدولت حملہ آور سسٹم کے اندر گہرائی تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جو کہ حساس تنصیبات کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ یہ حملہ آور تنظیمیں یورپ، ایشیا اور جنوبی امریکہ میں پھیلی ہوئی ہیں، جن کے ملازمین کو جعلی ملازمت کی پیشکشوں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب ہدف بننے والا فرد متعلقہ فائل یا سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرتا ہے، تو پس منظر میں خطرناک کوڈ متحرک ہو جاتا ہے جو کہ گرین بون او ایس اور دیگر سکیورٹی سسٹمز کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عالمی سطح پر سائبر سکیورٹی کے اداروں اور محققین نے تمام متعلقہ تنظیموں کو فوری طور پر الرٹ جاری کر دیا ہے تاکہ اس نئی مہم کے اثرات کو زائل کیا جا سکے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ونڈوز سسٹمز کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کریں اور ملازمین کو سوشل انجینئرنگ حملوں سے بچانے کے لیے اضافی تربیتی سیشنز فراہم کریں تاکہ اس قسم کی جاسوسی کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔