LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی پالیسیاں اور امریکہ کی کمزوری: ایک تجزیہ

News Image
مبصرین کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں اٹھائے گئے اقدامات نے اندرونی ہم آہنگی اور عالمی اثر و رسوخ کو نقصان پہنچایا۔ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے نعرے کے برعکس ان پالیسیوں نے ملک کو کئی محاذوں پر کمزور کیا۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 'میک امریکہ گریٹ اگین' یعنی ایم اے جی اے کا نعرہ بلند کیا گیا تھا جس کا مقصد امریکی عوام کو ایک سنہری دور کی واپسی اور اندرونی ہم آہنگی کی یقین دہانی کرانا تھا۔ تاہم، سیاسی مبصرین اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا یہ مؤقف رہا ہے کہ ان کے دورِ اقتدار میں اختیار کی جانے والی پالیسیوں نے امریکہ کو مضبوط کرنے کے بجائے کئی اہم شعبوں میں نمایاں طور پر کمزور کیا۔ اندرونی تقسیم ہو یا عالمی سطح پر اتحادوں کا زوال، ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کے طویل المدتی اثرات مرتب ہوئے۔ سب سے پہلا بڑا نقصان روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی صورت میں سامنے آیا۔ نیٹو اور دیگر مغربی شراکت داروں کے ساتھ امریکہ کے دیرینہ تعلقات کو خطرے میں ڈالا گیا جس سے عالمی سطح پر واشنگٹن کی ساکھ متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ، ماحولیاتی معاہدوں اور بین الاقوامی تنظیموں سے دستبرداری نے امریکہ کو عالمی قیادت کے منصب سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جس سے خلا پیدا ہوا اور دیگر عالمی طاقتوں کو اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملا۔ ملکی سطح پر بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں تھی۔ سیاسی اور سماجی پولرائزیشن میں اضافہ ہوا، ادارہ جاتی اعتماد کو ٹھیس پہنچی اور جمہوری اقدار کو چیلنج کیا گیا۔ معاشی پالیسیوں اور تجارتی جنگوں کے نتیجے میں اگرچہ وقتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اس سے عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہوا اور امریکی کسانوں اور صنعت کاروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کے مطابق یہ تمام عوامل مجموعی طور پر امریکی طاقت کے زوال کا سبب بنے۔ مجموعی طور پر، ڈونلڈ ٹرمپ کا دورِ حکومت امریکی تاریخ کے انتہائی متنازع ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ ان کے حامی ان کی قوم پرست اپروچ کو سراہتے ہیں، لیکن دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ کار اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی پالیسیوں نے سپر پاور کے طور پر امریکہ کی پوزیشن کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر کمزور کیا ہے۔ مستقبل کے مورخین اس دور کا احاطہ کرتے ہوئے ان پالیسیوں کے منفی اثرات کو خصوصی اہمیت دیں گے۔