LIVE
Loading Breaking News...

ٹیکنالوجی، کارکردگی کا جنون اور انسانی آزادی

News Image
ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر کام میں حد سے زیادہ کارکردگی حاصل کرنے کا جنون انسانی زندگیوں کی روح کو سلب کر رہا ہے۔ جدید دور کی یہ مشین جیسی رفتار ہمیں روزمرہ کے فیصلوں اور آزادی سے محروم کرتی جا رہی ہے۔
آج کی دنیا میں کارکردگی کو ہر انسانی کوشش کا سب سے بڑا مقصد اور معیار سمجھ لیا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین اور کمپنیاں اس دوڑ میں پیش پیش ہیں کہ زندگی کے ہر شعبے کو اس حد تک خودکار اور تیز رفتار بنا دیا جائے کہ انسان کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہموجود ہے کہ کیا زندگی کا مقصد صرف تیز ترین رفتار اور بے عیب پیداوار ہے یا اس میں انسانی جذبے، غلطیوں اور سکون کی بھی کوئی جگہ ہونی چاہئے۔ ہر لمحہ ٹیکنالوجی پر انحصار اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنے فیصلے مشینوں کے سپرد کرتے جا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں اپنی انفرادیت کھو رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس بے مہار پھیلاؤ نے انسانی فیصلوں کے دائرہ کار کو انتہائی محدود کر دیا ہے۔ جب ہر کام کا ایک بہترین اور پہلے سے طے شدہ ڈیجیٹل طریقہ کار موجود ہو، تو انسان کے پاس سوچنے، غور کرنے اور اپنے بل بوتے پر کوئی فیصلہ کرنے کا موقع کم ہو جاتا ہے۔ سمارٹ آلات، الگورتھم اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہماری زندگیوں کو اس طرح کنٹرول کیا جا رہا ہے کہ ہم جانے انجانے میں ایک مخصوص سانچے میں ڈھلتے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں انسان محض ایک زومبی کی طرح زندگی گزارے گا جس کی ہر حرکت کا تعین کوئی دوسری طاقت کر رہی ہو۔ اس پس منظر میں، ماضی کے 'لڈائٹ' (Luddite) نظریات کو ایک بار پھر یاد کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔ لڈائٹ وہ لوگ تھے جو صنعتی انقلاب کے دوران مشینوں کے ذریعے انسانی روزگار اور اقدار کے خاتمے کے خلاف اٹھے تھے۔ آج کے دور میں اگر ٹیکنالوجی ہماری ذاتی آزادی کو سلب کرتی ہے، ہمارے انتخاب کے حقوق کو چھینتی ہے اور ہمیں ایک بے روح زندگی گزارنے پر مجبور کرتی ہے، تو اس کے خلاف فکری مزاحمت وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ ترقی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انسان اپنی روح اور اپنی آزاد مرضی کو ہی قربان کر دے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی اور کارکردگی کے اس اندھے جنون پر نظرثانی کریں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی ہمارے لیے ایک آلہ کار (tool) ہے یا ہم اس کے غلام بن چکے ہیں۔ اگر ٹیکنالوجی ہماری زندگی کو آسان بنانے کے بجائے اسے مشینی اور بے روح بناتی ہے، تو اس پر قابو پانا یا اس کے استعمال میں اعتدال لانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ انسانی بقا اور حقیقی خوشی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اپنی آزادیِ انتخاب کو زندہ رکھیں اور ہر چیز کو محض کارکردگی کے ترازو میں تولنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کریں۔