Technology
علی بابا کا گیمنگ یونٹ فروخت، اے آئی پر بڑا داؤ
چینی ٹیکنالوجی جائنٹ علی بابا نے اپنی منافع بخش گیمنگ ڈویژن لنگسی کو پرائیویٹ ایکویٹی کے ہاتھ فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد حاصل ہونے والے سرمائے کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور ڈیٹا سینٹرز کی ترقی کے لیے استعمال کرنا ہے۔
چینی ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی علی بابا نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور اس پر بھاری سرمایہ کاری کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی نے اپنی انتہائی منافع بخش گیمنگ ڈویژن یا ذیلی ادارے 'لنگسی' کو ایک پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ کے ہاتھ فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کمپنی اپنے تمام تر اضافی وسائل اور سرمائے کو علی بابا کے اپنے جدید اے آئی ماڈل 'کیون' (Qwen) اور ملک بھر میں پھیلتے ہوئے ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے وقف کر سکے۔ دنیا بھر میں جاری اے آئی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہنے کے لیے علی بابا اب روایتی کاروبار سے نکل کر مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر مکمل توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ تاہم، اس تمام عمل کے دوران فروخت کرنے والی کمپنی علی بابا اور خریداروں کے درمیان گیمنگ سٹوڈیو کی درست مالیاتی قیمت کے تعین پر تاحال کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں جن کو حل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل چینی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگی، جہاں روایتی انٹرٹینمنٹ اور گیمنگ کے شعبے سے ہٹ کر اب تمام بڑی کمپنیاں جنریٹو اے آئی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہی ہیں۔ علی بابا کے اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ کمپنی کے اعلیٰ حکام مستقبل کی معیشت میں مصنوعی ذہانت کو سب سے اہم محرک کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔