LIVE
Loading Breaking News...

ماہرین فلکیات کی نئی کائناتی دریافت، پراسرار شے سامنے آ گئی

News Image
جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور سے ایک پراسرار چیز کی نشاندہی کی ہے جو بلیک ہول اور گیس کے غلاف پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عجیب و غریب شے تاروں اور بلیک ہولز کی روایتی تعریف سے ہٹ کر ایک بالکل نئی قسم کی کائناتی ساخت ہو سکتی ہے۔
ماہرین فلکیات نے کائنات کے ابتدائی دور میں ایک انتہائی پراسرار اور منفرد کائناتی شے دریافت کی ہے جو سائنسی دنیا میں شدید تجسس کا باعث بن گئی ہے۔ یہ انکشاف معروف جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کے ذریعے کیا گیا ہے، جس کی تازہ ترین مشاہداتی رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ نیا دریافت شدہ جسم روایتی ستاروں یا عام بلیک ہولز سے بالکل مختلف ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شے ایک بلیک ہول ہو سکتی ہے جو گیس کے ایک بہت بڑے اور ستارہ نما غلاف میں لپٹی ہوئی ہے، جو کائناتی ارتقا کے حوالے سے ایک بالکل نیا باب کھولتی ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ پراسرار شے بظاہر بلیک ہول ستاروں کی کیٹیگری سے تعلق رکھتی ہے، جن کا تصور طویل عرصے سے نظریاتی طور پر تو کیا جا رہا تھا لیکن عملی طور پر اس کی کوئی ٹھوس شہادت موجود نہیں تھی۔ اب جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کے طاقتور آلات کی مدد سے حاصل ہونے والے ڈیٹا نے اس بات کے امکانات کو روشن کر دیا ہے کہ ابتدائی کائنات میں اس قسم کے بڑے اور غیر معمولی اجسام کثرت سے موجود ہو سکتے تھے جو ستاروں کی پیدائش اور بلیک ہولز کے بننے کے عمل کو یکجا کرتے ہیں۔ اس دریافت کے بعد فلکیات دان کائنات کے ابتدائی ایام کی تشکیل اور بلیک ہولز کے پھیلاؤ کے بارے میں اپنے خیالات پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ انوکھا کائناتی مظہر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلاء میں اب بھی بے شمار ایسی حقیقتیں پوشیدہ ہیں جو انسانی عقل اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے بھی بالاتر ہیں۔ محققین اب اس مزید ڈیٹا کا تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ اس بات کی حتمی تصدیق کی جا سکے کہ آیا یہ واقعی ایک نئی قسم کا کائناتی نظام ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور راز چھپا ہے۔