Technology
ڈی این اے پر مبنی میموری ڈیوائس - کم بجلی استعمال کرنے والی نئی ٹیکنالوجی
محققین نے مصنوعی ڈی این اے اور سیمی کنڈکٹر کو ملا کر ایک ایسا انتہائی کم بجلی استعمال کرنے والا میموری ڈیوائس تیار کیا ہے جو معلومات کو ایک ہی جگہ محفوظ اور پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بائیو ہائبرڈ ٹیکنالوجی مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے سسٹمز اور اگلی نسل کے کمپیوٹرز کو مزید تیز اور توانائی سے بھرپور بنانے میں مدد دے گی۔
سائنس کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں محققین نے مصنوعی ڈی این اے کو سیمی کنڈکٹر کے ساتھ ملا کر ایک ایسا جدید میموری ڈیوائس تیار کیا ہے جو روایتی آلات کے مقابلے میں سو گنا کم بجلی استعمال کرتا ہے۔ اس نئی بائیو ہائبرڈ ٹیکنالوجی کی مدد سے اب معلومات کو ایک ہی مقام پر بیک وقت محفوظ اور پروسیس کرنا ممکن ہو گیا ہے، جو کمپیوٹر سائنس اور ڈیجیٹل ڈیٹا کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق روایتی کمپیوٹرز میں ڈیٹا کو اسٹور کرنے اور پروسیس کرنے کے لیے الگ الگ اجزاء استعمال ہوتے ہیں جن میں توانائی کا ضیاع ہوتا ہے، لیکن اس نئی ڈی این اے ٹیکنالوجی نے اس رکاوٹ کو عبور کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ڈی این اے میں قدرتی طور پر بہت زیادہ معلومات کو انتہائی کم جگہ پر محفوظ کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت پائی جاتی ہے۔ جب اس حیاتیاتی مادہ کو سیمی کنڈکٹرز کے ساتھ مربوط کیا گیا تو اس کے نتیجے میں ایک ایسا ہائبرڈ سسٹم وجود میں آیا جو نہ صرف انتہائی کم بجلی کی کھپت کرتا ہے بلکہ ڈیٹا پروسیسنگ کی رفتار کو بھی بہتر بناتا ہے۔ یہ خصوصیت بالخصوص جدید دور کے انرجی ایفیشینٹ سسٹمز کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے جہاں بجلی کی بچت اور کارکردگی سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کے طویل مدتی اثرات بہت وسیع ہیں اور یہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سسٹمز، مشین لرننگ اور اگلی نسل کے سپر کمپیوٹرز کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے اور چلانے کے لیے بہت زیادہ طاقتور پروسیسرز اور بڑی مقدار میں بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، مگر اس ڈی این اے میموری ڈیوائس کے آنے سے اے آئی ہارڈویئر کے شعبے میں توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے گا۔ ماہرین مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دینے پر کام کر رہے ہیں تاکہ اسے تجارتی پیمانے پر استعمال کیا جا سکے اور عام کمپیوٹرز سے لے کر بڑے ڈیٹا سینٹرز تک اس کے فوائد پہنچائے جا سکیں۔