Pakistan
سپریم کورٹ کا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم
پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان کی طبیعت بگڑنے پر انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے ان کا مکمل طبی ریکارڈ اور ان کی بہنوں سے ملاقات کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔
اسلام آباد: پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ سابق وزیراعظم کی خراب ہوتی ہوئی طبیعت کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس کے بعد ملک کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اپنایا جا रहा تھا کہ جیل میں سابق وزیراعظم کو طبی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے اور ان کی صحت تیزی سے گر رہی ہے۔
عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں جیل حکام سے کہا گیا ہے کہ عمران خان کو مزید تاخیر کے بغیر کسی بہتر طبی مرکز میں منتقل کیا جائے تاکہ ان کا مکمل چیک اپ اور علاج معالجہ ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے متعلقہ حکام کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ سابق وزیراعظم کا مکمل میڈیکل ریکارڈ عدالت میں پیش کریں تاکہ ان کی صحت کے بارے میں تمام حقائق واضح ہو سکیں۔
اس عدلتی حکم سے قبل عمران خان کی صحت اور جیل میں ان سے ملاقاتوں کے حوالے سے ایک طویل رسہ کشی جاری تھی۔ تحریک انصاف کی قیادت اور ان کے اہل خانہ بالخصوص ان کی بہنوں کی جانب سے بارہا یہ شکایات کی گئی تھیں کہ انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی ان کی طبی حالت کے بارے میں شفاف معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ تازہ ترین عدالتی احکامات میں ملاقاتوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں جو کہ اس تنازع کو حل کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں سیاسی اور عدالتی امور پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ عدالت کی مداخلت سے توقع کی جا رہی ہے کہ سابق وزیراعظم کی صحت سے متعلق خدشات کا ازالہ ہو سکے گا اور طبی بنیادوں پر ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے گا۔ پی ٹی آئی کارکنان اور حامیوں نے عدالتی حکم کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ عمران خان کو اب بہتر طبی امداد میسر آئے گی۔