LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور ایران کشیدگی، 60 روزہ ڈیڈ لائن غیر موثر قرار

News Image
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بار بار معاہدے کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے اب 60 روزہ ڈیڈ لائن کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ تہران کے مطابق خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے طے پانے والے سمجھوتوں پر عمل درآمد کے حوالے سے چیلنجز بدستور موجود ہیں۔
تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ اور اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد 60 روزہ ڈیڈ لائن اب اپنی اہمیت اور افادیت کھو چکی ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ جب تک فریقین کے مابین اعتماد سازی کے اقدامات نہیں کیے جاتے اور معاہدے کی روح کا پاس نہیں رکھا جاتا، اس قسم کی ڈیڈ لائنز کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہوگا۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کے تناظر میں اب صورتحال بالکل تبدیل ہو چکی ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے نئے سرے سے سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر معاہدے تک پہنچنے کے لیے مقرر کردہ وقت ختم ہو چکا ہے، تاہم زمینی حقائق کے مطابق فریقین کے درمیان باہمی حملوں میں کمی ضرور دیکھی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ عارضی طور پر کشیدگی میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن بنیادی سیاسی اور عسکری اختلافات تاحال حل طلب ہیں۔ ان اختلافات کی وجہ سے خطے میں ایک دائمی اور پائیدار جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنا ایک مشکل ترین ہدف بنتا جا رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس پورے تنازع میں اسرائیل کو ایک بڑا رکاوٹ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہونے والی مفاہمت اور جنگ بندی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ تہران کے مطابق اسرائیلی عزائم خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں اور کسی بھی پائیدار معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی دیوار ہیں۔ تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران نے ہمیشہ سفارتی راستوں کو ترجیح دی ہے، لیکن ملکی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اب عالمی سطح پر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کے اس نئے موڑ کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل میں کیا پیش رفت ہوگی۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین پر زور دے رہی ہیں کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں تاکہ مشرق وسطیٰ کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ تہران کا اصرار ہے کہ واشنگٹن کو پہلے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہوگی اور ایران کے خلاف اقدامات کو ترک کرنا ہوگا۔