Business
بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا امکان، جولائی میں ٹیرف بڑھنے کی خبر
جولائی کے مہینے میں بجلی کے نرخوں میں اڑتالیس پیسے سے لے کر ڈھائی روپے فی یونٹ تک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس اضافی بوجھ پر تاجروں اور صارفین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو مسترد کرے۔
پاکستان میں ماہ جولائی کے دوران بجلی کے صارفین پر مہنگائی کا ایک اور بم گرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جہاں بجلی کے ٹیرف میں ڈھائی روپے فی یونٹ تک اضافے کی بازگشتسنائی دے رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ اضافے سے ملک بھر کے عوام پہلے ہی سے دباؤ کا شکار معیشت میں مزید مشکلات کا سامنا کریں گے۔ بجلی کی قیمتوں میں اس اضافے کی خبر سامنے آتے ہی ملک بھر کے کاروباری حلقوں اور عام صارفین میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
معروف کاروباری شخصیات اور تاجر برادری نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ چونتیس ارب روپے کے اس اضافی بوجھ کو صریحاً مسترد کر دے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی سے بلند ترین شرحِ سود، ٹیکسوں کے بھاری بھرکم بوجھ اور مہنگے ایندھن کی وجہ سے صنعتیں اور تجارتی سرگرمیاں شدید جمود کا شکار ہیں، اور ایسے میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ معیشت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔
دوسری جانب، ملک کے مختلف حصوں میں عام صارفین اور مختلف عوامی تنظیموں نے بھی بجلی کے بلوں میں چونتیس ارب روپے کے اضافی بوجھ اور دو سو یونٹس تک کے بلنگ کے موجودہ نظام کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں گھریلو صارفین کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا محال ہو چکا ہے، اور حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی ریلیف کے لیے فوری طور پر اقدامات کرے اور اس ظالمانہ اضافے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔