LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور طیاروں کی فضائی پٹیاں کم کرنے کا نیا برطانوی منصوبہ

News Image
برطانیہ میں ایک نئے آزمائشی منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے جس میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے طیاروں کے پیچھے بننے والی خطرناک فضائی پٹیوں کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ پٹیاں زمین کے ماحول میں حرارت کو پھنسانے اور گلوبل وارمنگ میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔
برطانیہ میں ایک جدید آزمائشی منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد ہوائی جہازوں کے سفر کے دوران آسمان پر بننے والی کنڈینسیشن ٹریلز یا فضائی پٹیوں کو کم کرنا ہے۔ یہ سفید دھاری دار لکیریں، جو اکثر طیاروں کے گزرنے کے بعد آسمان پر دکھائی دیتی ہیں، دراصل آبی بخارات اور اخراج پر مشتمل ہوتی ہیں جو زمین کے ماحول میں سورج کی حرارت کو پھنسانے کا سبب بنتی ہیں۔ اس عمل کو موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار تیز کرنے میں ایک اہم عامل سمجھا جاتا ہے۔ اس نئے ٹرائل کے تحت، مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے الگورتھم پائلٹس اور ائل ٹریفک کنٹرولرز کو ایسے متبادل اور ہوشیار فضائی راستے تجویز کریں گے جہاں ان نقصان دہ لکیروں کے بننے کے امکانات کم سے کم ہوں۔ یہ سسٹمز ہوا کے درجہ حرارت، نمی کے تناسب اور پرواز کی بلندی کا باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہیں تاکہ ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، ایوی ایشن کا شعبہ دنیا بھر میں کاربن کے اخراج اور موسمیاتی تبدیلیوں میں نمایاں حصہ دار ہے۔ اگرچہ ہوائی سفر کو مکمل طور پر بند کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن اس طرح کی جدید تکنیکی اصلاحات کے ذریعے اس کے ماحول دشمن اثرات کو کسی حد تک ضرور قابو کیا جا سکتا ہے۔ برطانوی حکومت اور متعلقہ ادارے اس آزمائشی منصوبے کے نتائج کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اسے کمرشل پروازوں کے لیے بڑے پیمانے پر لاگو کیا جا سکے۔ اس منصوبے کی کامیابی سے نہ صرف بین الاقوامی پروازوں کے ماحول دوست بننے میں مدد ملے گی بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف عالمی جنگ میں ایک اہم سنگ میل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تحفظ کا یہ امتزاج مستقبل کے صاف ستھرے فضائی سفر کی ضمانت بن سکتا ہے جس پر دنیا بھر کے ماہرین کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔