World
شام کا اسرائیل پر فوجی ہوائی اڈے پر فضائی حملے کا الزام
شامی حکومت نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ملک کے ایک اہم فوجی ہوائی اڈے پر فضائی حملہ کیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اور عسکری ذرائع کے مطابق، شام نے ایک بار پھر پڑوسی ملک اسرائیل پر سنگین الزام عائد کیا ہے۔ دمشق انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج نے ایک اہم فوجی ہوائی اڈے کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ واقعہ خطے میں جاری کشیدگی کی ایک اور بڑی کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود محاذ آرائی میں مزید شدت آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس حملے کے بعد ہوائی اڈے کے اردگرد کے علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ شامی فضائی دفاعی نظام نے مبینہ طور پر بعض میزائلوں کو روکنے کی کوشش بھی کی، تاہم حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات ابھی تک سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئی ہیں۔ حکام کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شام کے اندرونی حصوں اور فوجی تنصیبات پر اس قسم کے حملے خطے کے استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے تحال اس مبینہ حملے پر کوئی فوری ردعمل یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، جیسا کہ روایتی طور پر وہ شام میں ہونے والے ایسے بیشتر واقعات پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتا ہے۔ تاہم، حالیہ ہفتوں کے دوران مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اس واقعے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔