Technology
شاومي کی پانچ لاکھ ای وی گاڑیوں کی فروخت اور سستی گاڑی پر اہم بیان
مشہور تکنیکی کمپنی شاومي نے محض اٹھائیس اعشاریہ پانچ مہینوں میں اپنی پانچ لاکھ ایس یو سیون الیکٹرک گاڑیاں صارفین کے حوالے کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ تاہم کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے بارہ ہزار پانچ سو یورو والی سستی الیکٹرک کار لانچ کرنے کی افواہوں کی سختی سے تردید کردی ہے۔
عالمی شہرت یافتہ چینی تکنیکی کمپنی شاومي نے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں ایک اور شاندار سنگ میل عبور کرتے ہوئے محض اٹھائیس اعشاریہ پانچ مہینوں میں پانچ لاکھ ایس یو سیون سیریز کی گاڑیاں کامیابی کے ساتھ صارفین کے حوالے کردی ہیں۔ یہ کارنامہ کمپنی کی آٹوموٹو مارکیٹ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مضبوط موجودگی کا واضح ثبوت ہے، جس نے روایتی گاڑی ساز اداروں کو بھی سخت مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے۔ شاومي کی جانب سے اس مختصر ترین مدت میں اتنی بڑی تعداد میں گاڑیاں تیار اور فروخت کرنا ایک بڑا تکنیکی اور انتظامی کارنامہ مانا جا رہا ہے۔
تاہم ان شاندار کامیابیوں کے باوجود ان تمام صارفین کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے جو بارہ ہزار پانچ سو یورو یعنی انتہائی کم قیمت میں کسی نئی شاومي الیکٹرک کار کے منتظر تھے۔ مارکیٹ میں پچھلے کچھ دنوں سے یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ کمپنی بہت جلد ایک انتہائی سستی انٹری لیول ای وی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے کم آمدنی والے طبقے کی رسائی بھی اس جدید ٹیکنالوجی تک ممکن ہو سکے گی۔ ان تمام قیاس آرائیوں کا جواب دیتے ہوئے شاومي کے چیف ایگزیکٹو لی جون نے واضح کیا ہے کہ فی الحال اتنی کم قیمت پر کسی الیکٹرک گاڑی کو مارکیٹ میں لانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شاومي کا بنیادی ہدف فی الحال پریمیم اور اعلیٰ کارکردگی کی حامل الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنا ہے جو جدید ترین فیچرز اور بہترین بیٹری رینج سے لیس ہوں۔ کمپنی اپنے معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر پروڈکشن کی رفتار کو بڑھانا چاہتی ہے تاکہ مانگ اور رسد کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔ سستی گاڑی کی افواہوں کے رد ہونے کے بعد اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ شاومي آنے والے وقت میں اپنی موجودہ سمارٹ ای وی لائن اپ کو ہی مزید بہتر بنانے اور بین الاقوامی منڈیوں تک پھیلانے پر توجہ مرکوز رکھے گی۔