LIVE
Loading Breaking News...

مکہ اتحاد اور یونانی خارجہ پالیسی کے چیلنجز

News Image
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے گہرے تعلقات نے یونانی سفارت کاری پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ایتھنز حکومت خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور اقتصادی راہداریوں کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔
یونانی سفارت کاری کو اس وقت شدید دباؤ کا سامنا ہے جب ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے اپنے باہمی تعلقات کو مزید گہرا کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان تینوںماتحت برادر اسلامی ملکوں کے مابین بڑھتی ہوئی قربتوں کو بین الاقوامی میڈیا اور تجزیہ کاروں کی طرف سے ایک نئے تزویراتی اتحاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے مکہ اتحاد بھی کہا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے ایتھنز کے پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ یہ پیشرفت خطے میں روایتی طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔ دوسری طرف، ریاض حکومت کی جانب سے امریکہ سے نئے سکیورٹی ضمانتوں کے حصول کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس سے خطے کے جیو پولیٹیکل منظرنامے میں مزید پیچیدگی آ گئی ہے۔ ان تمام تبدیلیوں کے تناظر میں، یونان اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کا بھرپور تحفظ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایتھنز مشرقی بحیرہ روم کے ایکٹ (East Med Act) اور اقتصادی راہداری IMEC کے منصوبوں کو موثر بنانے کے لیے متحرک ہو چکا ہے۔ خطے میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی اور اس طرح کے نئے اتحادوں کے بننے سے یونان کے لیے خطے میں توازن قائم رکھنا ایک کٹھن امتحان بنتا جا رہا ہے۔ یونانی وزارت خارجہ ان تمام محرکات کا گہرائی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ آنے والے وقتوں میں کسی بھی ممکنہ سفارتی یا سکیورٹی بحران سے نمٹا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ تینوں ممالک دفاعی اور اقتصادی میدان میں مزید قریب آتے ہیں تو اس سے خطے کے دیگر ممالک بالخصوص یونان اور اس کے اتحادیوں کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔