World
افغانستان سے انخلا: بائیدن کا فیصلہ پانچ سال بعد درست ثابت
امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے فیصلے کو پانچ سال مکمل ہونے پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم درست ثابت ہوا۔ افغانستان اب عالمی دہشت گردی کا محفوظ گڑھ نہیں رہا اور امریکی افواج خطے میں خطرات سے محفوظ ہیں۔
واشنگٹن: امریکہ کی جانب سے افغانستان سے فوج کے انخلا کے فیصلے کو پانچ سال گزرنے کے بعد اب یہ بات کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ سابقہ اور موجودہ امریکی انتظامیہ کا یہ اقدام درست سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم تھا۔ تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق، وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کا فیصلہ وقت کی اہم ضرورت تھا، جس سے امریکہ کو کئی ممکنہ بڑے بحرانوں سے بچا لیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد جہاں ایک طرف امریکی فوجیوں کی جانوں کا ضیاع روکا گیا، وہیں دوسری طرف ملکی وسائل کو بہتر سمت میں استعمال کرنے کا موقع بھی ملا۔ رپورٹس کے مطابق، انخلا کے بعد افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے جو خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے، ان میں سے کئی ایک پروپیگنڈا ثابت ہوئے ہیں۔ ملک اب دنیا کے لیے عالمی دہشت گردی کا وہ محفوظ گڑھ نہیں رہا جس کا ماضی میں خدشہ ظاہر کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ، خطے میں امریکی موجودگی ختم ہونے سے اب امریکی فوجی دستے ایران یا روس کی جانب سے کسی ممکنہ فضائی حملے یا دشمنانہ کارروائی کی زد میں بھی نہیں ہیں، جس سے علاقائی کشیدگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملی ہے۔ اگرچہ افغانستان کے اندرونی حالات اور انسانی حقوق کے مسائل بدستور ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں، لیکن مجموعی طور پر امریکی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ملک کو ایک لامتناہی اور لاحاصل جنگ سے نکالنا ایک اسٹریٹیجک کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ طویل المدتی جنگوں میں پھنسے رہنے کے بجائے سفارت کاری اور دیگر ذرائع سے قومی سلامتی کے امور کو حل کرنا زیادہ موثر حکمت عملی ہے۔ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی برادری کو افغانستان کے ساتھ تعلقات اور امداد کے حوالے سے نئے لائحہ عمل پر غور کرنا ہوگا، تاکہ خطے میں دیرپا استحکام کی راہیں استوار کی جا سکیں اور عام شہریوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم انخلا کے فیصلے کی افادیت پر اب عالمی سطح پر بھی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔