LIVE
Loading Breaking News...

فیفا ورلڈ کپ تنازع: کیون لیمور کا استعفیٰ اور اندرونی اختلافات

News Image
فیفا کے سینئر عہدیدار کیون لیمور نے صدر کے متنازع منصوبے پر کھل کر تنقید کرنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ اس منصوبے کے حوالے سے فیفا کے عملے کو مبینہ طور پر دھوکے میں رکھا گیا۔
عالمی فٹبال کی نگران تنظیم فیفا میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں جہاں ایک اہم ترین عہدیدار نے صدر کے منصوبے پر کھل کر تنقید کرنے کے بعد اپنے عہدے سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ یہ پیش رفت فیفا کے انتظامی ڈھانچے میں جاری کشمکش کا منہ بولتا ثبوت ہے جو آنے والے دنوں میں تنظیم کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ کیون لیمور، جنہوں نے گزشتہ ماہ فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو کی جانب سے پیش کیے جانے والے ایک متنازع منصوبے پر سخت عوامی تنقید کی تھی، اب اس تنازع کے نتیجے میں اپنے عہدے سے الگ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ اپنے ایک بیان میں کیون لیمور نے کھل کر مؤقف اپنایا تھا کہ فیفا کے عملے کو اس نئے اور متنازع منصوبے کے حوالے سے مبینہ طور پر دھوکے میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کے اندر اہم فیصلوں سے متعلق ملازمین کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور حقائق کو چھپایا گیا، جو کہ فیفا کے اندرونی نظم و نسق اور شفافیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس نوعیت کی عوامی تنقید فیفا جیسے عالمی ادارے میں انتہائی نایاب سمجھی جاتی ہے، اور اسی بناء پر اس معاملے نے بین الاقوامی میڈیا اور فٹبال حلقوں میں ایک طوفان کھڑا کر دیا تھا۔ اب اس تنقید کے بعد کیون لیمور کا استعفیٰ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ فیفا کے اعلیٰ ترین سطح پر اختلافات کس قدر بڑھ چکے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس واقعے سے فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو کے طرزِ حکمرانی اور انتظامی امور پر مزید سوالات اٹھیں گے۔ فٹبال کی دنیا سے تعلق رکھنے والے شائقین اور ماہرین اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کا براہ راست اثر عالمی سطح پر فٹبال کے مقابلوں، بالخصوص فیفا ورلڈ کپ کے انتظامات اور مستقبل کے فیصلوں پر پڑ سکتا ہے۔