LIVE
Loading Breaking News...

نیوکلیئر سیکٹر میں نجی شرکت: شಂತಿ ایکٹ کے تحت نئے حفاظتی قوانین

News Image
بھارت میں نجی کمپنیوں کے لیے نیوکلیئر سیکٹر کھولنے کے سلسلے میں نئے مسودہ ضوابط جاری کر دیے گئے ہیں۔ ان قوانین میں مالیاتی، سیکورٹی، لائسنسنگ اور فضلے کے انتظام سے متعلق کڑے حفاظتی معیارات شامل ہیں۔
نئی دہلی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق شಂತಿ ایکٹ کے تحت نئے مسودہ ضوابط جاری کیے گئے ہیں جن کا مقصد نجی کمپنیوں کے لیے نیوکلیئر سیکٹر کو کھولتے ہوئے انتہائی سخت حفاظتی معیارات کو یقینی بنانا ہے۔ ان ضوابط کے تحت نجی آپریٹرز کو مالیاتی استحکام، سخت لائسنسنگ کے طریقہ کار، جامع سیکیورٹی پروٹوکولز اور تابکار فضلے کے محفوظ انتظام سے متعلق تمام شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے ملکی توانائی کی ضروریات تو پوری ہوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں اور ماحول کی حفاظت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ مسودے میں واضح کیا گیا ہے کہ نیوکلیئر تنصیبات کے لیے درخواست دینے والی نجی کمپنیوں کو مالی طور پر مضبوط ہونا لازمی ہوگا تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال یا طویل المدتی منصوبوں کے اخراجات کو اٹھا سکیں۔ اس کے علاوہ، لائسنس کے حصول کے لیے ریگولیٹری باڈی کے سامنے تمام تکنیکی تفصیلات پیش کرنا ہوں گی۔ سیکورٹی کے حوالے سے بھی انتہائی سخت اقدامات تجویز کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے سیکیورٹی رسک یا غیر قانونی رسائی کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔ حساس تنصیبات کے گرد حفاظتی حصار کو فول پروف بنانے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی معیار کے اصولوں کو اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔ فضلے کے انتظام یعنی ویسٹ مینجمنٹ کو اس پورے فریم ورک میں سب سے اہم نکتہ قرار دیا جا رہا ہے۔ نیوکلیئر عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تابکار فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے نجی آپریٹرز کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور طویل مدتی منصوبے تیار کرنا ہوں گے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگر نجی شعبہ اس میدان میں قدم رکھتا ہے تو اسے ماحولیاتی تحفظ کے ان بین الاقوامی قوانین کی سختی سے پابندی کرنی ہوگی جو جوہری توانائی کے استعمال کے لیے لازم سمجھے جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ملک میں صاف ستھری توانائی کے فروغ میں مدد ملے گی بلکہ حفاظتی نظام بھی مزید مستحکم ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شಂತಿ ایکٹ کے یہ نئے قوانین نیوکلیئر انڈسٹری میں نجی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کریں گے لیکن دوسری طرف ان کی کڑی نگرانی بھی کی جائے گی۔ ریگولیٹری ادارے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نجی کمپنیاں تمام حفاظتی ضوابط پر حرف بہ حرف عمل کریں۔ ان قوانین کے نفاذ سے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور ساتھ ہی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جدید تحقیق کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔