LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت: سیاسی رہنماؤں کے بیانات

News Image
ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی شخصیات نے زور دیا ہے کہ بہتر گورننس کے لیے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس حوالے سے مختلف رہنماؤں نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے آئینی اور انتظامی اقدامات پر زور دیا ہے۔
پاکستان میں انتظامی امور کو بہتر بنانے اور عوام کو نچلی سطح پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔ اس سلسلے میں تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر امین اسلم نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بڑے انتظامی یونٹس کے ساتھ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور نئے صوبوں کے قیام سے گورننس کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔ دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ علیم خان نے بھی ہزارہ صوبے کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل سے پسماندہ علاقوں کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق مل سکیں گے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی دباؤ کے پیش نظر چھوٹے صوبے ہی مؤثر حکمرانی کی واحد ضمانت ہیں۔ اس بحث میں دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی حصہ لیا ہے اور مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین اور حامیوں کے درمیان آئینی ترمیم اور سیاسی اتفاق رائے کے حوالے سے بھی گفتگو جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد میں انتظامی اصلاحات کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ عوام کے دیرینہ مسائل کا حل نکالا جا سکے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔