World
ساحلی حادثہ: ہسپتال میں زیر علاج سات سالہ موسیٰ احمد جاں بحق
برطانیہ کے ساحلی علاقے میں پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے کے دوران پانی میں ڈوبنے والا سات سالہ موسیٰ احمد ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اس واقعے کے بعد اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد تین ہو گئی ہے۔
برطانیہ کے ساحلی علاقے میں گزشتہ بدھ کے روز پیش آنے والے ایک دلخراش سمندری حادثے میں پانی میں پھنس جانے والا سات سالہ موسیٰ احمد ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق کمسن بچے کو شدید تشویشناک حالت میں طبی امداد کے لیے لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہو سکا اور دم توڑ گیا۔ اس المناک واقعے کے بعد مقامی کمیونٹی میں شدید غم و غصے اور سوگ کی فضا پائی جا رہی ہے۔ پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق گزشتہ بدھ کے روز اس ساحلی مقام پر پیش آنے والے اس ناگہانی حادثے کے بعد پانی سے نکالے جانے والے افراد میں موسیٰ احمد تیسرا شخص ہے جو اس المناک سانحے میں اپنی زندگی کی بازی ہار چکا ہے۔ اس سے قبل بھی اس واقعے کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے جنہیں بروقت طبی امداد دینے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اس ہولناک واقعے نے ساحلی تفریحی مقامات پر حفاظتی انتظامات اور ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں کے نظام پر ایک بار پھر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور سمندری ریسکیو اداروں نے اس افسوسناک حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ بچوں اور دیگر سیاحوں کی حفاظت کے لیے موجود ایس او پیز پر کس حد تک عمل درآمد کیا گیا تھا۔ موسیٰ احمد کی ناگہانی موت پر ان کے لواحقین اور مقامی شہریوں نے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے جبکہ ماہرین نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ ساحلی علاقوں میں بچوں کی نقل و حرکت پر انتہائی سخت نظر رکھیں تاکہ آئندہ ایسے کسی بھی جاں گداز سانحے سے بچا جا سکے۔